1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق صدر کی آخری رسومات، جنوبی کوریا میں غم کی لہر

جنوبی کوریا کے سابق صدر نوہ مو ژون کی آخری رسومات کے موقع پر ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر اپنے غم اور جذبات کا اظہار کیا۔ نوہ نے پچھلے ہفتے خود کشی کر لی تھی۔

default

سابق صدر کی آخری رسومات کے موقع پر سیئول کر سڑکوں پر ہزاروں افراد موجود رہے

سابق صدر کی آخری رسومات میں جنوبی کوریا کے اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے شرکت کی جب کہ دوسری جانب نوہ مو ژون کے ہزاروں حامی سیول کی سڑکوں پر دکھائی دئے۔ اس موقع پر جنوبی کوریا کے وزیراعظم ہن سیونگ سُو نےجمہوریت کے لئے سابق صدر کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا۔

سابق صدر نوہ پر رشوت لینے کے الزمات تھے، جن کے باعث وہ مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار چلے آ رہے تھے۔ گزشتہ ہفتہ کے روز اُنہوں نےاپنے گھر کے قریب ایک پہاڑی سے کُود کر خودکشی کر لی تھی۔ اُن کی موت کی خبر سے جنوبی کوریا میں زبردست صدمے کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

نوہ مو ژون سن 2003ء سے 2008ء تک جنوبی کوریا کے صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ اُن کی صدارتی مدت کے خاتمے کے بعد ہونے والے انتخابات میں موجودہ صدر لی میونگ بک کی جماعت گرینڈ نیشنل پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

سیول میں سابق صدر کے حامیوں نے اُن پر چلنے والے رشوت ستانی کے مقدمے کو سیاسی قرار دیا اور کچھ حامیوں نے موجودہ صدر کو نوہ مو ژون کی موت کا ذمہ دار گردانا۔

Roh Moo Hyun

سابق صدر بدعنوانی کے الزامات کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے

سابق صدر کی آخری رسومات کے موقع پر مظاہروں کے خدشے کے پیش نظرسیول میں سیکیورٹی کے زبردست انتظامات کئے گئے تھے۔ اس موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے تقریباً پندرہ ہزار پولیس اہلکارتعینات کئے گئے تھے۔

سابق صدر کی خودکشی کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ وہ جمعہ کو علی الصبح سیر کرنے کی غرض سے گھر سے باہر نکلے تھے۔ باسٹھ سالہ صدر نے بونگھوا نامی پہاڑی پر چڑھنے کے کوئی ایک گھنٹہ بعد ایک تیس فٹ تک گہری کھائی میں چھلانگ لگا دی تھی۔

سابق صدر کے کمپیوٹر سے ایک بیان ملا تھا، جس میں اُنہوں نے لکھا تھا:’’آنے والے دِنوں میں جس تناؤ کا مجھے شکار ہونا پڑے گا، اُس کی شدت بہت زیادہ ہے، میری بقیہ زندگی دوسرے لوگوں پر بوجھ بن کر رہ جائے گی۔ میں کچھ بھی نہیں کر سکوں کا کیونکہ میں صحت مند بھی نہیں ہوں۔ میں نہ تو کتاب پڑھ سکتا ہوں اور نہ ہی کچھ لکھنے کے قابل ہوں۔ اداس ہونے کی ضروت نہیں، کیا موت اور زندگی فطرت کا حصہ نہیں ہیں؟ اِس لئے افسوس کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہ میرا مقدر ہے۔ براہِ مہربانی میری لاش کو جلا دیا جائے اور گھر کے پاس میرے نام کا کتبہ لگا دیں۔ جو کچھ میں کرنے جا رہا ہوں، اُس پر میں نے بہت سوچ بچار کر لی ہے۔‘‘

جنوبی کوریا کے موجودہ صدر نے بھی اِس واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ وہ اُس دوست سے محروم ہو گئے ہیں، جس کے ساتھ مِل کر اُنہوں نے ملک میں جمہوریت کے استحکام کی کوششیں کیں اور دس سال تک اُن کے ساتھ حکومت سازی میں بھی شریک رہے۔

آنجہانی صدر کا دورِ صدارت سن دو ہزار تین میں شروع ہوا تھا۔ کچھ ہی ماہ بعد اُن کو الیکشن کے ضوابط کے منافی کام کرنے پر اراکین پارلیمنٹ نے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے معطل کردیا مگر دستوری عدالت نے اُن کو الزامات سے بری قرار دیا اور وہ دوبارہ منصبِ صدارت پر براجمان ہو گئے۔ سن دو ہزار آٹھ میں اُن کا عہد ختم ہو گیا۔ اِس دوران اُنہوں نے شمالی کوریا کے ساتھ تعلُقات کو بہتر خطوط پر اُستوار کرنے کی خاصی عملی کوششیں کیں۔