1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق صدر مشرف کے خلاف مقدمہ ، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مابین اختلافات واضح

سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مابین خلیج میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

default

سابق صدر پرویز مشرف ابھی بھی پاکستانی سیاسی منظرنامہ پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمے پر مسلم لیگی اصرار اور حکومت کے مبہم رویے کے تناظر میں وزیر داخلہ رحمان ملک کے دورہ سعودی عرب اور اس موقع پر پرویز مشرف کی لندن سے خصوصی طیارے کے ذریعے جدہ آمد کے نتیجے میں ایک بار پھر پاکستانی معاملات میں سعودی عرب کے عمل دخل کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں ہیں۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بقول یہ معاملہ پارلیمان کے سامنے رکھا جائے گا اور متفقہ قرارداد کے ذریعے یہ مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کا اصرار ہے کہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت جنرل مشرف پر غداری کا مقدمہ پارلیمانی قرارداد کے بغیر جلد از جلد قائم کیا جانا چاہئے تا کہ کوئی اور فوجی جرنیل منتخب نظام سبوتاژ کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔

Pakistans Innenminister Rehman Malik auf PK zum Tod des Talibanführers Mehsud

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اپنےحالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران پرویز مشرف سے ملاقات کرنے کی خبروں کو رد کیا ہے

آئین کے مطابق غداری کا مقدمہ صرف وفاقی حکومت درج کر سکتی ہے تاہم سابق صدر کی فوجی حیثیت اور بظاہر موجودہ حکومت کی امریکہ اور سعودی عرب ایسے ممالک کے ساتھ اس معاملے پر مفاہمت کے باعث صدر زرداری یہ کارروائی شروع کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس کی ایک اور بڑی وجہ متحدہ قومی موومنٹ اور ق لیگ ایسی بعض جماعتوں کی مخالفت بھی ہے کیونکہ ان کے مطابق سابق صدر پر مقدمے کی بجائے حکومت کو موجودہ سنگین صورتحال کے ازالے پر توجہ دینی چاہئے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر ظفرعلی شاہ کا کہنا ہے کہ 31 جولائی کو سپریم کورٹ نے جس طرح 3 نومبر 2007ء کے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا۔ اس کی روشنی میں جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے جبکہ حکومت بظاہر اس معاملہ میں سنجیدہ معلوم نہیں ہوتی: ’’ ایک مہینہ اور ایک دن گزرنے کے باوجود پارلیمنٹ بھی کسی خاطر خواہ نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔ مشرف کا ٹرائل کرنے کےلئے پارلیمنٹ حکومت پر زور دیتی چونکہ حکومت خود ان کی اپنی ہے پارلیمنٹ میں اکثریت انہی لوگوں کی ہےاس لئے حکومت نہ صرف پرویز مشرف کا ٹرائل کرنے سے گریزاں ہے بلکہ وزیراعظم نے ٹرائل کرنے سے یہ کہہ کر ایک طرح کا انکار کر دیا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے ۔“

Pakistan Ehemaliger Premierminister Nawaz Sharif

پاکستان مسلم لیگن کے رہنما نواز شریف بضد ہیں کہ آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ،مشرف کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے

مبصرین کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے ان مطالبات سے قطع نظر یہ بات خاصی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ رکوانے کےلئے حکومت سعودی حکام کے ساتھ روایتی روابط کو استعمال کر رہی ہے اور خاص طور پر نواز شریف کے سعودی عرب میں طویل قیام کو ان کے خلاف ایک مفاہمتی کارڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ وہ جنرل مشرف کے خلاف کارروائی کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں۔

رپورٹ : امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت: عاطف بلوچ