1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق صدر مشرف: ’ملک واپسی اور سیاست میں شرکت‘

پاکستان کے سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے امریکی ٹیلی وژن چینل سی این این کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اپنے وطن واپسی اور وہاں سیاست میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

default

سن 2008ء کے انتخابات کے بعد اقتدار سے محروم ہونے والے مشرف اپنا زیادہ تر وقت لندن میں گزارتے ہیں تاہم اِس ہفتے وہ واشنگٹن کے دورے پر گئے ہوئے تھے، جہاں اُنہوں نے متعدد ممتاز پاکستانی شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں میں اپنے مستقبل کے منصوبوں پر تبادلہء خیال کیا۔

سی این این کے ساتھ جمعرات کو ایک انٹرویو میں جب مشرف سے یہ پوچھا گیا کہ وہ کب تک وطن واپسی کا پروگرام بنا رہے ہیں تو اُنہوں نے اِس کا کوئی براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ مشرف نے کہا:’’مَیں یقیناً پاکستان واپس جانے اور وہاں سیاست میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔ آیا مَیں صدارت کے لئے لڑوں گا یا وزارتِ عظمےٰ کے لئے، یہ بعد میں دیکھا جائے گا۔‘‘

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مشرف نے سیاسی منظر پر اپنی واپسی کے لئے الیکشن حکام کے ہاں ایک نئی سیاسی جماعت رجسٹر کروانے کی درخواست دی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وطن واپسی پر سابق صدر کو سن 2007ء میں اپنے اقتدار کو طول دینے کی خاطر ججوں کو نظر بند رکھنے کے سلسلے میں مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Bildgalerie Jahresrückblick 2008 August Pakistan

2008ء کے انتخابات میں مشرف کی مخالف جماعتوں کو کامیابی ملی تھی

مشرف کو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ہونے والی اُن تحقیقات کے سلسلے میں بھی پوچھ گچھ کا سامنا ہو سکتا ہے، جن کا تعلق سابقہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل سے ہے اور جن کا تعلق اِس نکتے سے ہے کہ مشرف نے بے نظیر کو بچانے کے لئے کافی انتظامات نہیں کئے۔ اپنے انٹرویو میں مشرف نے اِس نکتے سے اختلافِ رائے کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے خیال میں بھٹو کے لئے ’تمام تر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔‘ مشرف نے کہا: ’’درحقیقت مَیں ہی تو تھا، جس نے اُن کو درپیش خطرے سے خبردار کیا تھا۔‘‘ مشرف کے مطابق اُنہوں نے ’بے نظیر بھٹو کو پہلے اُس جگہ جانے سے منع کیا تھا، جہاں وہ بعد میں اسلامی انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ تاہم جب بعد میں یہ الزام لگائے جا رہے تھے کہ بھٹو کی نقل و حرکت کو محدود بنایا جا رہا ہے تو بھٹو نے پھر وہیں جانے کا فیصلہ کیا۔‘

اپنے اِس انٹرویو میں مشرف نے قبائلی علاقے میں انتہا پسندوں کے خلاف پاکستانی صدر آصف زرداری اور وزیر ا عظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے شروع کئے گئے فوجی آپریشن کی مکمل حمایت کی تاہم اُنہوں نے ڈرون طیاروں کے ذریعے پاکستانی سرزمین پر حملوں کی مخالفت کی۔ مشرف نے یہاں تک کہا کہ ممکن ہے، نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں کار بم کے ناکام حملے کے ملزم فیصل شہزاد نے بھی یہ قدم اِن ڈرون طیاروں کی اندھا دھند بمباری کی وجہ سے ہی اٹھایا ہو۔

سابق پاکستانی صدر نے ’فیس بُک‘ پر پابندی کے سلسلے میں حکومتِ پاکستان کے اقدام کی بھی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان میں اِس سوشل نیٹ ورکنگ وَیب سائٹ کے اُس صفحے کے خلاف زبردست اشتعال پایا جاتا ہے، جس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کا ایک مقابلہ کروایا گیا ہے۔ مشرف نے کہا کہ وہ خود ’فیس بُک‘ کو بے حد پسند کرتے ہیں، جہاں اُن کا اپنا بھی ایک صفحہ ہے۔ اِس صفحے پر اُن کے دو لاکھ سے زیادہ پرستار ہیں۔

رپورٹ : امجد علی

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM