1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق جرمن صدر رومان ہیرسوگ انتقال کر گئے

سابق وفاقی جرمن صدر رومان ہیرسوگ بیاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ صدر بننے سے قبل ہیرسوگ اپنی زندگی میں وزیر اور وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ بھی رہے تھے اور ان کی موت پر جرمنی میں گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Altbundespräsident Roman Herzog - Amtseid (picture alliance/dpa/P. Grimm)

یکم جولائی 1994ء کے روز رومان ہیرسوگ کی بطور وفاقی جرمن صدر حلف برداری کے موقع پر لی گئی ایک تصویر

وفاقی دارالحکومت برلن سے منگل دس جنوری کو موصولہ مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق رومان ہیرسوگ کے انتقال کی برلن میں وفاقی جرمن صدر کے دفتر نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

رومان ہیرسوگ کے انتقال پر موجودہ جرمن صدر یوآخم گاؤک نے اپنے اس پیش رو کے بارے میں کہا، ’’مجھے ان کے انتقال کی خبر سن کر گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے اپنی سمجھ بوجھ، دانش مندی اور زندگی بھر کے تجربے کے ساتھ جرمن صدر کی حیثیت سے اور اس سے پہلے اور بعد میں بھی نہ صرف جرمن ریاست بلکہ جرمنی کے ہر طرح کی آزادیوں کو یقینی بنانے والے وفاقی آئین کی بھی بے مثال نمائندگی کی۔‘‘

یوآخم گاؤک نے رومان ہیرسوگ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا، ’’پہلے ایک وزیر، پھر وفاقی جرمن آئینی عدلت کے سربراہ اور اس کے بعد وفاقی جرمن صدر کے طور پر رومان ہیرسوگ نے عمر بھر کوشش کی کہ عوام کے لیے شہری حقوق اور آئینی آزادیاں صرف خالی نعرے ہی نہ بن جائیں بلکہ عوام کو پوری طرح قابل عمل حالت میں اپنے ان حقوق کا شعور بھی ہونا چاہیے۔‘‘

رومان ہیرسوگ برسوں قبل جنوبی جرمن صوبے باڈن ورٹمبرگ میں داخلہ، تعلیمی اور ثقافتی امور کے وزیر رہے تھے، پھر 1983ء میں وہ ایک ماہر قانون کی حیثیت سے وفاقی جرمن آئینی عدالت سے منسلک ہو گئے تھے، جہاں انہوں نے 1987ء سے لے کر 1994ء تک اس عدالت کے سربراہ کے فرائض بھی انجام دیے۔

ہیرسوگ 1994ء سے لے کر 1999ء تک جرمنی کے صدر کے عہدے پر فائز رہے تھے اور انہوں نے اپنی پہلی مدت صدارت پوری ہونے سے کافی پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ دوبارہ اس عہدے کے لیے امیدوار نہیں ہوں گے۔

Deutschland Altbundespräsident Roman Herzog ist tot (Getty Images/F. Strangmann)

رومان ہیرسوگ کی نومبر دو ہزار پندرہ میں لی گئی ایک تصویر

1999ء سے لے کر 2000ء تک رومان ہیرسوگ نے اس یورپی کنوینشن کی سربراہی بھی کی تھی، جس نے یورپی یونین کا بنیادی حقوق کا نیا چارٹر ترتیب دیا تھا۔

ایک ماہر قانون اور سیاستدان کے طور پر بہت احترام کی نظر سے دیکھے جانے والے رومان ہیرسوگ پانچ اپریل 1934ء کو جرمنی کے شہر Landshut میں پیدا ہوئے تھے اور وہ ایک ماہر قانون کے طور پر میونخ یونیورسٹی سے بھی منسلک رہے تھے۔

1959ء میں انہوں نے کرسٹیانے کراؤس سے شادی کی تھی، جن سے ان کے دو بیٹے پیدا ہوئے تھے۔ کرسٹیانے کراؤس کے انتقال کے بعد رومان ہیرسوگ نے 2001ء میں الیگزینڈرا (فرائی فراؤ فان) بَیرلیشِنگن سے شادی کر لی تھی اور آخر وقت سے وہ اپنی اسی دوسری اہلیہ کے ساتھ شٹٹ گارٹ کے نواح میں شوئنٹال نامی علاقے میں واقع ایک قلعے میں رہتے تھے۔

پروٹسٹنٹ مسیحی عقیدے کے حامل رومان ہیرسوگ نے وفاقی صدر کے طور پر ہمیشہ جرمنی میں مسلسل اصلاحات کی وکالت کی تھی۔ 1997ء میں بطور صدر انہوں نے ایک انتہائی یادگار خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سیاست اور معاشرے میں ان جملہ رویوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے جانا چاہییں، جو اصلاحات اور ترقی کے عمل میں رکاوٹیں بنتے ہیں۔

سیاسی طور پر رومان ہیرسوگ کا تعلق وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی قدامت پسند جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) سے تھا۔

DW.COM