سابق تھائی وزیر اعظم کو پانچ برس قید | حالات حاضرہ | DW | 27.09.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق تھائی وزیر اعظم کو پانچ برس قید

تھائی لینڈ کی عدالت عُظمیٰ نے ملک کی سابق پچاس سالہ خاتون وزیراعظم یِنگ لُک شناوترا کوپانچ سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

خبررساں ادارے ڈی پی اےسے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق تھائی لینڈ کی عدالت عُظمیٰ نے سابق وزیراعظم یِنگ لَک شناوترا کو پانچ برس قید کی سزا سنائی ہے۔  اس مقدمے کا فیصلہ پچھلے ماہ کی پچیس تاریخ کو سنایا جانا تھا لیکن شناوترا کے عدالت میں پیش نہ ہونے اور ملک سے فرار ہو جانے کے شبے کی بنا پر  سپریم کورٹ نے خاتون سیاستدان کی حاضری کو لازمی بنانے کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے، جس کے بعد عدالت نے سماعت کا فیصلہ آج ستائیس ستمبر کو کرنا تھا۔ یہ فیصلہ شناواترا کی عدم موجودگی میں سنایا گیا۔

Thailand Prozess Yingluck Shinawatra (Getty Images/AFP/L. Suwanrumpha)

سابق وزیراعظم الزامات کی صحت سے انکار کرتی آئی ہیں

سابق وزیر اعظم نے اپنے اوپر الزام کے بعد اس تناظر میں کوئی عوامی تبصرہ یا اظہار خیال نہیں کیا تھا۔ ینگ لُک اور شناوترا خاندان کو تھائی لینڈ میں بے پناہ عوامی مقبولیت حاصل ہے۔ ان کی حمایت میں بھاری اکثریت میں عوام اس فیصلے سے ناخوش اور سراپا احتجاج ہیں۔ یِنگ لُک اپنے ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔ 

     

 واضح رہے ینگ لک شناوترا پر مقدمہ سن 2014 میں ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد قائم ہونے والی فوجی حکومت نے قائم کیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق کسانوں کو چاول کی قیمتوں پر دی جانے والی رعایت کے معاملے پرخاتون وزیراعظم کی غفلت نے ملکی خزانے کو قریب آٹھ بلین  ڈالر کا نقصان پہنچایا تھا۔ یِنگ لُک شناوترا اپنے اوپر عائد الزامات کی صحت سے انکار کر تی رہی تھیں۔