1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق امریکی نائب صدر چینی کے خلاف نئے الزامات

امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق سابق نائب صدر ڈک چینی نے ملکی خفیہ ادارے CIA کے انسداد دہشت گردی سے متعلق ایک خاص پروگرام کو آٹھ برس تک امریکی کانگریس سے چھپائے رکھا۔

default

سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی

Central Intelligence Agency CIA Logo

ڈک چینی نے مرکزی تفتیشی ادارے کو ہدایت کر رکھی تھی کہ وہ اس خفیہ پروگرام کے بارے میں امریکی سینیٹ یا ایوان نمائندگان کے ارکان کو کچھ نہ بتائیں

ساتھ ہی ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے اور دو مرتبہ صدر کے فرائض انجام دینے والے جارج ڈبلیو بش کے نائب ڈک چینی نے مرکزی تفتیشی ادارے کے اہلکاروں کو یہ ہدایت بھی کر رکھی تھی کہ وہ اس خفیہ پروگرام کے بارے میں امریکی سینیٹ یا ایوان نمائندگان کے ارکان کو کچھ نہ بتائیں۔

ماضی میں ہوتا یہ تھا کہ امریکی خفیہ اداروں کی سرگرمیوں کے بارے میں اگر ملکی کانگریس کے تمام ارکان کو نہیں تو کم ازکم آٹھ اہم ترین ارکان کو پوری طرح باخبر رکھا جاتا تھا۔ ان میں سے چار کانگریس کی خفیہ اداروں سے متعلق کنٹرول کمیٹی کے سرکردہ اراکین ہوتے تھے اور باقی چار سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی رہنما۔ تاہم اب ڈک چینی اور CIA کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خفیہ پروگرام کے حوالے سے میڈیا میں جو نئی رپورٹیں سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق بش دور حکومت میں نائب صدر کے ایماء پر اس خفیہ پروگرام کی ان آٹھ اہم ترین اراکین کو بھی خبر نہیں کی گئی تھی۔

ڈک چینی کے خلاف نئے الزامات کے سامنے آنے کی بالواسطہ وجہ CIA کے نئے ڈائریکٹر لیون پینیٹا بنے جنہیں موجودہ صدر اوباما نے سال رواں کے آغاز پر سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ پینیٹا نے

Leon-Panetta designierter CIA Chef 1996

سی آئی اے کے سربراہ لیون پینیٹا

اس خفیہ پروگرام کا علم ہوتے ہی اسے فوری طور پر روک دیا تھا۔ سی آئی اے کایہ خفیہ پروگرام کس نوعیت کا تھا اور اس کے مقاصد کیا تھے، یہ بات ابھی تک سامنے نہیں آئی کیونکہ قانونی طور پر ایسی کوئی بھی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی جاسکتیں۔

تاہم ڈک چینی کے خلاف ملکی میڈیا میں لگائے گئے الزامات کے بعد امریکی کانگریس کی خفیہ اداروں سے متعلق کمیٹی کے سربراہ سلویسٹر رائیس نے قومی ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں بغیر کوئی تفصیلات بتائے کہا کہ ڈک چینی نے CIA کے جس پروگرام کو کانگریس کے اہم ترین ارکان سے بھی چھپائے رکھا، وہ ایک ایسا انتہائی خفیہ پروگرام ہے جو بین الاقوامی سطح پر بہت ہی سنجیدہ نوعیت کے نتائج کی وجہ بن سکتا ہے۔

ماضی میں بش انتظامیہ کی ملکی خفیہ اداروں کی کارکردگی سے متعلق اکثر باتوں کو کانگریس سے چھپاتے رہنے کی سوچ پر بہت سے ریپبلکن سیاستدانوں نے بھی ڈک چینی پر تنقید کی ہے۔ تاہم اس بارے میں مستقبل کے حوالے سے امریکی کانگریس کی سیکرٹ سروسز کمیٹی کے سربراہ سلویسٹر رائیس کا موقف بہت واضح ہے۔

سلویسٹر رائیس کی رائے میں معاملہ ایسی معلومات حاصل کرنے کا ہے جو بہت ضروروی ہیں تاکہ ارکان کانگریس خفیہ اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں اور یہی سب سے اہم بات ہے۔