1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق امریکی صدر پر جوتا پھینکنے والے عراقی صحافی کو سزا

عراق کی ایک عدالت نےسابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی جانب جوتا پھینکنے والےصحافی منتظر الزیدی کو تین سال قید کی سزا کا حکم سنا دیا ہے۔

default

یہ واقعہ پچھلے سال دسمبر میں بغداد میں پیش آیا تھا

عرب دنیا میں کسی شخص کی جانب جوتا پھینکنا انتہائی ہتک آمیز سمجھا جاتا ہے اور عراق میں اس جرم کی سزا پندرہ سال تک ہو سکتی ہے۔

سماعت کے دوران منتظر الزیدی کا کہنا تھا :’’ ایک عام عراقی کی لحاظ سے یہ قدرتی عمل تھا، ایک ایسے رہنما کے خلاف جو طاقت کے بل بوتے پر عراق پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔‘‘

جوتا پھینکنے کا واقعہ بغداد میں بحثیت امریکی صدر، جارج ڈبلیو بش اور عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پچھلے برس کے آخر میں پیش آیا تھا۔

جوتے پھینکنے کے بعد اس صحافی نے چیخ کر کہا تھا :’’یہ ہےعراقی عوام کی طرف سے تمہارے لئے الوداعی بوسہ‘‘۔

اس واقعے کے بعد عرب دنیا میں مقبولیت حاصل کرنے والے صحافی منتظرالزیدی کے ایک ساتھی محمد عبدالرحمان نے بتایا:’’ وہ اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکا کیوں کہ بش عراق میں حاصل کی جانے والی ’کامیابیوں‘ کا ذکرکر رہے تھے، جو ہمیں تو کہیں نظر نہیں آتیں بلکہ اس کے برعکس آج ملک میں بجلی نہیں، خدمات کے شعبے نہیں، تعمیرنو، کچھ بھی نہیں۔ اس لئے وہ بش کی یہ کہہ کر بےعزتی کرنا چاہتا تھا، کہ دیکھو! تم جھوٹے ہو ہم اس بات کو نہیں مانتے‘‘۔

عبدالرحمان نے کہا کہ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے۔ 2003 میں جب بش نے صدام حسین کا تختہ الٹا تو لوگوں نے بغداد میں صدام کے گرے بت کو جوتوں سے مار کراپنی نفرت کا اظہار کیا۔ آج یہی جوتے بش کو پڑ رہے ہیں۔

منتظر الزیدی کے وکیل دھِیا السعدی نے عدالتی سزا کو سخت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس حکم کے خلاف اپیل داخل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سزا کا یہ فیصلہ عراقی قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔

عدالتی فیصلے کے واقت کارروائی بند کمرے میں تھی اور سماعت کی مکمل رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی تاہم ایک رپورٹ کے مطابق فیصلہ سنتے ہوئے منتظر الزیدی نے واشگاف نعرہ لگایا ’’عراق زندہ باد‘‘

منتظر الزیدی کی بہن رقیّہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےفرط جذبات سے کہا: ’’مالکی(عراقی وزیر اعظم) امریکی ایجنٹ ہے۔‘‘

عدالتی فیصلے سے پیشتر منتظر الزیدی کے رشتے داروں اور حامیوں کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا تھا۔