1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق اسرائیلی صدر کو جنسی الزامات کی پاداش میں سزا مل گئی

اسرائیل کی ایک عدالت نے سابق صدر موشے کاتساف کو جنسی زیادتی کے الزام پر سات سال قید اور دو سال کی معطل سزا سنا دی ہے۔ کاتساف 2000ء سے2007ء اسرائیل کے صدرکے عہدے پر فائز رہے تھے۔

default

سزا سنائے جانے سے تقریباﹰ تین ماہ قبل ملکی عدالت نےکاتساف پر اپنی ماتحت خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں مجرم قرار دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کاتساف کو زر تلافی کے طور پر 28 ہزار ڈالر بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق، " مورد الزام شخص ایک علامت ہے، یہ حقیقت کہ انہوں نے یہ جرم ایک ایسے وقت میں کیا جب وہ اعلٰی رتبے پر فائز تھے، ان کے فعل کو مزید سنگین بناتا ہے"۔

خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور انہیں ہراساں کرنے کے یہ واقعات اس وقت رونما ہوئے، جب کاتساف 1996ء سے 1999ء تک سیاحت کے وزیر تھے ہ اس کے علاوہ 2000ء سے2007ء کے درمیانی عرصے میں بھی جب وہ اسرائیل کےصدر تھے۔

Flash-Galerie Moshe Katsav Katzav

کاتساف سزا سنائے جانے کے بعد عدالت سے باہر آتے ہوئے

عدالت کے مطابق خواتین کی جانب سے کاتساف پر لگائے جانے والے دو الزامات درست ہیں۔ اس سے قبل عدالت میں یہ بھی ثابت ہوگیاتھا کہ موشے کاتساف نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ ایک اور خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس نے 1988ء میں کاتساف کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تھا اور دو ماہ بعد ہی یروشلم کے ایک ہوٹل میں وہ کاتساف کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہوئی تھی۔ اسی طرح دو مزید خواتین کا کہنا تھا کہ سابق صدر نے ان دونوں کو زبردستی اپنی بانہوں میں لےکرگلے لگایا تھا۔

موشے کاتساف کو2007ء میں اپنی مدت صدارت ختم ہونے سے کچھ عرصہ قبل ہی انہی الزامات کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔اس تمام عرصے کے دوران وہ اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM