1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق اسرائیلی صدر شمعون پیریز کو سپرد خاک کر دیا گیا

اسرائیل کے بزرگ اور بانی سیاسی رہنماؤں میں شمار کیے جانے والے شمعون پیرز کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں ہیں۔ انہیں یروشلم کے ماؤنٹ ہرزل کے قومی قبرستان میں دفن کیا گیا ہے۔

شمعون پیریز کی آخری رسومات یہودی مذہب اور سرکاری اعزاز کے مطابق ادا کی گئیں۔ وہ فالج کے حملے کے بعد اٹھائیس ستمبر کو وفات پا گئے تھے۔ آخری رسومات کے لیے بروز جمعہ ماؤنٹ ہرزل میں ایک غیر معمولی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ امریکی صدر سمیت بیس غیر ملکی رہنما بھی ان کی آخری رسومات میں شریک ہوئے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق غیرملکی صدور کے علاوہ پندرہ سے زائد وزرائے خارجہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ غیر ملکی مہمانوں میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی شامل تھے۔

Barack Obama Jerusalem Israel Beisetzung Shimon Peres (picture-alliance/AP Photo/A. Schalit )

امریکی صدر شمعون پیریز کے تابوت کے ساتھ

امریکی صدر باراک اوباما نے اِس تقریب میں شمعون پیریز کو صیہونی نظریات میں انصاف اور امید کا استعارہ قرار دیا۔ اوباما نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے ملک کے لیے ہتھیار اِس لیے حاصل کیے تاکہ اُن کے ہم وطن آزادی سے زندگی بسر کر سکیں اور اپنے ملک اسرائیل کی حفاظت کر سکیں۔ امریکی صدر کے مطابق پیریز کی ہی سیاسی بصیرت اور دانش کا نتیجہ ہے کہ آج امریکا اور اسرائیل کے درمیان ناقابلِ شکست دوستی قائم ہے۔ اوباما نے اپنی تقریر میں فلسطینی لیڈر محمود عباس کی موجودگی کے تناظر میں کہا کہ اِس تقریب میں فلسطینی لیڈر کی شرکت پیریز کی امن کے لیے نامکمل کوششوں کا ایک حوالہ ہے۔ اس تقریب کے عزت و وقار کے تناظر میں اوباما نے بھی اسرائیلی مذہبی ٹوپی ’کِپا‘ پہن رکھی تھی۔

USA Schimon Peres in Washington (Reuters/B. McDermid)

شمعون پیریز کو اسرائیل کے بانی سیاستدانوں میں شمار کیا جاتا ہے

سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے پیریزکو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشترکہ انسانی اقدار کے داعی تھے۔ سابق امریکی صدر نے پیریز کے ساتھ اپنی پچیس سالہ رفاقت اور دوستی کو ایک گرم جوش عہد سے تعبیر کیا۔ انہوں نے پیریز کے اُن ناقدین پر بھی تنقید کی جو انہیں ایک مبہم خواب دیکھنے والے سیاستدان سمجھتے تھے۔ کلنٹن نے کہا کہ شمعون پیریز نے اپنی زندگی کی ابتدا اسرائیل کے ایک شاندار طالب علم کے طور پر شروع کی، بعد میں وہ ایک معتبر استاد کے طور پر ابھرے اور انجام کار وہ باوقار سیاستدان بن کر جیے۔

Israel Shimon Peres Gedenkfeier in der Knesset Bill Clinton (Picture-alliance/dpa/A. Safadi)

سابق امریکی صدر بل کلنٹن پیریز کے تابوت کے سامنے احتراماً کھڑے ہیں

امریکی وفد میں وزیر خارجہ جان کیری کے علاوہ بیس اراکینِ کانگریس بھی شامل تھے۔ فرانسیسی و جرمن صدور فرانسوا اولانڈ اور یوآخم گاؤک بھی دوسرے رہنماؤں کے ہمراہ تقریب میں موجود تھے۔ اس تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم بینجن نیتن یاہو نے شمعون پیریز کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایک عظیم انسان قرار دیا اور کہا کہ وہ دنیا کے بڑے رہنماؤں میں شمار کیے جائیں گے۔

آج جمعے کے روز اُن کی آخری رسومات کی تقریب کو مقتول اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن کی تدفین کے بعد کا اسراسیل میں سب سے بڑا بین الاقوامی لیڈروں کا اجتماع قرار دیا گیا ہے۔ اسحاق رابن اور شمعون پیرز کو فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کے ہمراہ نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ پیریز کو اسرائیل کے بانی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ مختلف حکومتوں میں مختلف کلیدی عہدوں پر تعینات رہے۔ انہوں نے دو مرتبہ وزرات عظمیٰ کا منصب بھی سنبھالا اور سیاست کو خیرباد کہنے سے قبل وہ ملکی صدر بھی تھے۔

Angela Merkel trägt sich in Kondolenzbuch für Schimon Peres ein (picture-alliance/dpa/M.Kappeler )

جرمن دارالحکومت برلن میں اسرائیلی سفارت خانے میں چانسلر انگیلا میرکل تعزیتی کتاب میں اپنے احساسات درج کرتے ہوئے

 پیریز کی آخری رسومات کے موقع پر یروشلم اور تل ابیب میں انتہائی زیادہ سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔ یروشلم میں لوگوں کو سکیورٹی کی وجہ سے کئی قسم کی مشکلات کا سامنا رہا۔ کئی اندرونی سڑکوں کے علاوہ ایک بڑی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

عملی سیاست کو خیرباد کہنے کے بعد اسرائیلی سیاستدان نے پیریز سینٹر برائے امن کے نام سے ایک تھنک ٹینک اور غیرسرکاری تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ اس سینٹر کی چھتری تلے وہ ایسے ترقیاتی و تعاون کے مختلف پروگراموں کو جاری رکھے ہوئے تھے، جس میں اسرائیل، فلسطینی اور عرب اقوام بھی شامل ہیں۔ وہ فلسطین کے ساتھ امن معاملات کو آگے بڑھانے میں پیش پیش تھے۔ اس مناسبت سے وہ کئی ملکوں میں جا کر مشرقِ وسطیٰ میں امن کے حصول کے علاوہ اسرائیل اور فلسطینیوں کی ایک علیحدہ ریاست کے موضوعات پر لیکچرز بھی دیتے رہے ہیں۔