1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سابق آمر ژاں کلود دووالیر کی ہیٹی واپسی پر عوام حیران

ہیٹی کےعوام ملک پر 25 برس تک حکومت کرنے والے آمر ژاں کلود دووالير کی 25 برس بعد اچانک واپسی پر حیران وپریشان ہیں۔

default

ژان کلود دووالیر کو بےبی ڈوک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ پیر کے روز بے بی ڈوک کے دوست اور خیرخواہوں کا دارالحکومت پورٹ او پرانس کے معروف لگژری کیریبی ہوٹل میں تانتا بندھا رہا، جہاں ہیٹی پر سخت گیر انداز سے حکمرانی کرنے والے دووالیر رہائش پزیر ہیں۔

ہیٹی سمیت بین الاقوامی سطح پر یہ چہ مگوئیاں ہورہی ہیں کہ بے بی ڈوک نے ایک ایسے وقت میں ملک میں واپسی کا فیصلہ کیوں کیا، جب ہیٹی شدید افراط وتفریط کا شکار ہے۔

Wahlen in Haiti Michel Martelly

صدارتی امیدوار مائیکل مارٹیلی کو بے بی ڈوک کا ہم خیال سمجھا جاتا ہے

مگر تمام تر چہ مگوئیوں اور کشیدہ صورتحال کے باوجود نہ تو کسی کو گرفتار کیا گیا ہے، نہ کوئی بغاوت یا مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، نہ ہی ان کی واپسی پر کسی طرح کی کوئی خوشی منائی گئی ہے اور نہ کسی قسم کا کوئی بیان یا وضاحت سامنے آئی ہے سوائے اس خبر کے 1986ء میں اقتدار سے علیحدہ کیے جانے والے بے ڈوک ہیٹی پہنچے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف بے بی ڈوک کی طرف سے بھی ابھی تک اس بیان کے علاوہ کوئی اہم بات سامنے نہیں آئی کہ وہ ہیٹی مدد کرنے کے لیے آئے ہیں۔

بے بی ڈوک نے اپنے والد جنہیں پاپا ڈوک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کی وفات کے بعد سن 1971ميں مسند اقتدار سنبھالی تھی۔ اس وقت ان کی عمر محض 19 برس تھی۔ تاہم 25 برس کی حکمرانی کے بعد، فروری سن 1986ميں اُنہيں ايک عوامی بغاوت کے نتيجے ميں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا، جس کے بعد انہوں نے ترک وطن کرتے ہوئے فرانس میں رہائش اختیار کرلی تھی۔

ہیٹی میں موجود امریکی سفارت خانے کے مطابق، " ژاں کلود دووالیرکی طرف سے واپسی کے وقت کے انتخاب پر ہم حیران ہیں، کیونکہ وہ ایک ایسے وقت پر وطن واپس پہنچے ہیں، جب یہاں بہت کچھ ہورہا ہے اور جب انتخابات کا دور دورہ ہے۔"

Archivfoto Jean-Claude Duvalier 1980 Haiti

بے بی ڈوک کی اپنی بیوی کے ساتھ 1980ء کی ایک یادگار تصویر

تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور وہ افراد جو بے بی ڈوک کے ہتھکنڈوں کا شکار بنے وہ اپنے خوف ، دکھ اور ناگواری کو مخفی نہیں رکھ پائے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے امریکی ڈائریکٹر جوزے میگوئل ویوانکو کے مطابق، " دووالیر سے پہلے ہی ہیٹی میں بے شمار مسائل اور مشکلات ہیں۔"

دوسری طرف نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں شریک ایک امیدوار مائیکل مارٹیلی کی انتخابی مہم چلانے والے ایک ذریعے کے مطابق بے بی ڈوک کی آمد سے مارٹیلی کو غیرمتوقع طور پر نقصان پہنچا ہے، اور انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ان کی کامیابی کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔کیونکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مارٹیلی دراصل دووالیر کے نظریات ہی کے حامل ہیں۔

ورجینیا یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے پروفیسر رابرٹ فیٹن کے مطابق، جو کہ ہیٹی سے ہی تعلق رکھتے ہیں، " مارٹیلی کے گرد زیادہ تر لوگ دووالیر کے حامی ہیں۔ لہذا یہ بات قرین قیاس ہے کہ موجودہ صدر رینے پریوال نے جان بوجھ کر بے بی ڈوک کو ملک میں آنے کی اجازت دی ہو، تاکہ لوگوں کو دکھایا جاسکے کہ دووالیر اور مارٹیلی دراصل ایک ہی ہیں اور نتیجتاﹰ پریوال کے حامی امیدوار سیلیسٹائن کو فائدہ پہنچے۔

سیلیسٹائن کی پارٹی INITE نے نومبر میں ہونے والے صدارتی اتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی تاہم امریکی ریاستوں کی ایک آرگنائزیشن کے مطابق مارٹیلی کو سیلسٹائن پر سبقت حاصل تھی، لہذا سیلسٹائن کو انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ایک سابق خاتون اول میرلانڈے مینیگاٹ کے خلاف ووٹنگ میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ مینیگاٹ کو پہلے مرحلے میں 31 فیصد ووٹ ملے تھے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس