1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سائی بابا کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں من موہن سنگھ بھی شامل

بھارت میں وزیر اعظم من موہن سنگھ آج منگل کو پُتا پارتھی کے مقام پر سائی بابا کہلانے والے اس ہندو گرو کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے روانہ ہوگئے جن کا اتوار کے روز انتقال ہو گیا تھا۔

default

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ

ستیا سائی بابا کو ایک ایسی کرشماتی روحانی شخصیت کی حیثیت حاصل تھی جس کے دنیا بھر میں پیروکاروں کی تعداد کئی ملین بنتی ہے۔ سائی بابا کے انتقال کے بعد سے اب تک بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں پُتا پارتھی کے مقام پر ان کے آشرم پر جانے والوں کی تعداد اب تک لاکھوں میں بنتی ہے۔

سائی بابا کا انتقال اتوار کے روز 85 برس کی عمر میں ہوا تھا جب ان کے جسم کے کئی اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ستیا سائی بابا کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں نہ صرف ہزاروں کی تعداد میں عام دیہاتی باشندے شامل ہیں بلکہ ان میں بہت سی غیر ملکی شخصیات، فلمی اور کھیلوں کی دنیا کے بہت سے سٹارز کے نام بھی آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک کرکٹ کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی سچن تندولکر بھی ہیں جو سائی بابا سے اپنی عقیدت کے اظہار کے لیے پُتا پارتھی گئے۔

اس ہندو گرو کے آشرم میں ان کی لاش ایک ایسے شفاف تابوت میں رکھی گئی ہے جس کے ذریعے ان کے عقیدت مندوں کو اپنے گرو کے آخری دیدار کا موقع مل جاتا ہے۔ سائی بابا کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کرنے والوں میں بھارتی ریاست گجرات کےوزیر اعلیٰ نریندر مودی بھی شامل ہیں۔

Satya Sai Baba

ستیا سائیں بابا کو ایک کرشماتی شخصیت کی حیثیت حاصل تھی

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ جو عقیدے کے اعتبار سے خود ایک سکھ ہیں، انہوں نے سائی بابا کو تمام مذاہب کے لوگوں کےلیے ایک پُراثر شخصیت قرار دیا۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ بھارت میں حکمران کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور کئی دیگر اہم شخصیات کے ساتھ آج منگل کی شام سائی بابا کے آشرم پر پہنچ رہے ہیں۔

سائی بابا کےعقیدت مندوں کے مطابق اس ہندو گرو کے پاس کرشماتی طاقت تھی اور وہ حیران کن انداز میں مختلف چیزیں یکدم اپنے پیروکاروں کے سامنے حاضر کر دیتے تھے۔ ان کے عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ وہ انہیں خواب میں بھی ملتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ سائی بابا معجزے کر دکھانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور شدید طور پر بیمار افراد کو مکمل صحت یاب بھی بنا دیتے تھے۔

سائی بابا نے 126 ملکوں میں اپنے آشرم قائم کر رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے عقیدت مندوں سے ملنے والی عطیے کی رقوم کے ذریعے ایسے ہسپتالوں اور سکولوں کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک بھی قائم کیا جہاں تمام سہولیات اکثر مفت مہیا کی جاتیں ہیں۔ سائی بابا کو اپنی زندگی میں ایسے ناقدین کا سامنا بھی رہا جن کے بقول وہ ایک دھوکے باز شخص تھے اور مبینہ طور پر غیر شفاف مالیاتی اقدامات اور جنسی زیادتی کے واقعات میں بھی ملوث رہے تھے۔

سائی بابا کی چتا کو عام ہندوؤں کی طرح جلایا نہیں جائے گا بلکہ انہیں مقدس ہندو شخصیات کی آخری رسومات کے طریقے کے تحت دفن کیا جائے گا۔ ان کی تدفین کل بدھ کے روز ہو گی جس کے بعد پُتا پارتھی میں جمع ان کے ہزارہا عقیدت مند واپس اپنے اپنے گھروں اور ملکوں کو لوٹنا شروع ہو جائیں گے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس