1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سائی بابا قریب المرگ: پُتا پارتھی میں عقیدت مندوں کا ہجوم

بھارت کے روحانی پیشوا ستیا سائی بابا کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اُن کی حالت لمحہ با لمحہ بگڑ رہی ہے اور اُن کے عقیدت مند اُن کے گرد جمع ہو رہے ہیں۔ گرو کی صحت یابی کے لیے اجتماعی دعائیں کی جا رہی ہیں۔

default

سائی بابا کی 81 ویں سالگرہ پر بھارتی صدر عبدل کلام اُن کے ساتھ

بھارت کی جنوب مشرقی ریاست اندرا پردیش میں سائی بابا کے آبائی گاؤں پُتا پارتھی کی پولیس نے سائی بابا کی عیادت اور اُن کے دیدار کے خواہشمند لاتعداد لوگوں کے اُس ہسپتال کی طرف بڑھتے ہوئے ہجوم کو روکنے کے لیے باڑ کھڑی کر دی ہے، جہاں سائی بابا زیر علاج ہیں۔

تمام بھارت سے پُتا پارتھی آنے والے سائیں بابا کے عقیدت مندوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ تمام ہوٹل اور دیگر قیام گاہیں بھر چُکی ہیں تاہم سائی بابا کے پرستار پُتا پارتھی آنے سے نہیں رُک رہے۔ ہوٹلوں میں کمروں کی کمی کے باعث ان میں سے زیادہ تر افراد کُھلے آسمان تلے پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔

ایک بھارتی میڈیکل بُلیٹن کے مطابق سائی بابا کے تمام حیات آفریں اعضاء کمزور پڑتے جا رہے ہیں اور ان پر علاج کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔

Launch eines Buches über den indischen Crickethelden Sachin Tandulkar

سچن تندولکر بھی سائی بابا کے مرید ہیں

85 سالہ سائی بابا کو 28 مارچ کو پُتا پارتھی کے ہسپتال میں پھیپھڑوں اور قلب کی تکلیف اور گردوں کے ناکارہ ہو جانے کے سبب داخل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ اب سائی بابا کا جگر بھی کام نہیں کر رہا اور اُن کا بلڈ پریشر تیزی سے کم ہو رہا ہے، یہ علامات تمام ڈاکٹروں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں انسان سائی بابا کی روحانی طاقت کی وجہ سے اُن کی بہت زیادہ قدر کرتے ہیں۔ سائی بابا ہوا سے مختلف چیزیں پیدا کرنے کا جادو جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ جنم کا حال بھی بتا سکتے ہیں اور وہ آخری اسٹیج کی بیماریوں کا علاج بھی کیا کرتے ہیں۔

Sexskandale in Indien

ہندو گرو رسانی بابا پر سیکس اسکینڈل بن چکا ہے

سائی بابا کے پرستاروں میں بھارت کے سابق وزراء اور صدور کے علاوہ بڑے بڑے تاجر بھی شامل ہیں۔ یہاں تک کہ کرکٹ سُپر اسٹار سچن تندولکر بھی اُن کے معتقد ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس