1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سائی اِنگ وَن تائیوان کی پہلی خاتون صدر منتخب

تائیوان کی اپوزیشن پارٹی کی لیڈر سائی اِنگ وَن صدارتی الیکشن میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ حکمران نیشنلسٹ پارٹی نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ صدارتی الیکشن کا انعقاد آج ہفتے کے روز کیا گیا تھا۔

default

سائی اِنگ وَن تائیوان کی پہلی خاتون صدر

تائیوان کی آزادی پسند اپوزیشن پارٹی ڈیموکریٹک پروگریسِو پارٹی کی خاتون رہنما سائی اِنگ وَن نے بھاری اکثریت سے صدارتی الیکشن میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہیں مطلوبہ پچاس فیصد سے زائد ووٹ حاصل ہو چکے ہیں۔ خاتون سیاستدان ماضی میں قانون کی پروفیسر رہ چکی ہیں اور وہ تائیوان کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئی ہیں۔ وہ آٹھ برس تک منصب صدارت پر براجمان رہنے والے ما یِنگ جی اُو (Ma Ying-jeou کے عہدے کی مدت پوری ہونے پر صدر کا منصب سنبھالیں گی۔

موجودہ حکمران جماعت چائنیز نیشنلسٹ پارٹی (KMT) کے امیدوار ایرک چُو لی لُن نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسی دوران نیشنلسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم ماؤ چی کُواو نے بھی اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ تائیوان کی سیاسی روایت کے تحت اگر انتخابات میں حکمران سیاسی جماعت کو شکست ہو جائے تو وزیراعظم اپنے منصب سے فوری طور پر استعفیٰ دے دیتا ہے۔

Taiwan Wahl Tsai Ing-wen

سائی اِنگ وَن تائیوان کی پہلی خاتون صدر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

حکمرن جماعت کے امیدوار ایرک چُو لی لُن نے اپنی شکست تسلیم کرنے کے بیان میں کہا کہ انہوں نے ہر ایک کو انتخابات کے نتائج پر مایوس کیا ہے۔ اپنے اداس حامیوں کے بھاری جتھے میں گِرے ہوئے چائنیز نیشنلسٹ پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ اُن کی جماعت کو بھی تائیوانی عوام نے شکست دے دی اور اب اِن نتائج کے بعد وہ اپنی پارٹی کی قیادت سے بھی علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (DPP) کے ہیڈکوارٹرز پر جشن کا سماں ہے۔

صدر منتخب ہونے کے بعد سائی اِنگ وَن نے کہا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات میں استحکام لانے کی کوشش کریں گی۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی سیاسی جماعت کے ورکروں نے ایسے خیالات کا اظہار کیا کہ تائیوان ساری دنیا میں اپنی شناخت کے ساتھ قائم رہنا چاہتا ہے جبکہ نیشنلسٹوں نے اِسے چین کا حصہ بنانے کے قریب کر دیا تھا۔ لوگوں نے اپوزیشن پارٹی کی کامیابی پر یہ بھی کہا کہ تائیوانی عوام نے اُس پارٹی کے مسترد کر دیا ہے جو اُن کے ملک کو چین کے قریب تر لے جانے کی کوششوں میں تھی۔

اُدھر چینی دارالحکومت بیجنگ میں حکومت نے انتخابات پر گہری نگاہ ضرور رکھی ہوئی تھی لیکن کوئی ردِعمل ابھی تک ظاہر نہیں کیا ہے۔ چین کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نئی صدر جب تک بیجنگ حکومت کو مشتعل نہیں کرتی سب ٹھیک رہے گا۔ چین کے سرکاری میڈیا نے واضح طور کہا تھا کہ حکومت تائیوان کے الیکشن میں کسی بھی طور پر ملوث ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ نئی صدر سائی اِنگ وَن کو چین اور امریکا جیسی سپر پاورز کے درمیان تعلقات کو توازن دینا ہو گا۔