1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سائبر جاسوسی میں امریکہ کے خلاف چین کی سبقت

جیسے جیسے امریکہ اور چین معاشی ترقی کی منزلیں طے کر تے جارہے ہیں اور سیاسی و مالیاتی امور میں دونوں کا ایک دوسرے سے رابطہ بڑھ رہا ہے، واشنگٹن اور بیجنگ نے ایک دوسرے کی جاسوسی بھی بڑھا دی ہے۔

default

ماضی کے روایتی جاسوسی اور بصری آلات کے مقابلے میں اب یہ کام انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جدید ترین شکل سے لیا جاتا ہے۔ ماہرین کی ایک بڑی اکثریت کے مطابق اس ضمن میں چین کو اپنے امریکی حریفوں پر سبقت حاصل ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کی ’سائبر جاسوسی‘ کے بارے میں تفصیلی اور حتمی حقائق عام نہیں ہوئے تاہم بعض خفیہ سفارتی کیبلز اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کے انٹرویوز پر مبنی رپورٹوں کے جائزے سے چینی سبقت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

امریکی تفتیش کاروں کے مطابق چینی ہیکرز نے ملٹی بلین ڈالر مالیت کے اسلحے کے ڈیزائن سے متعلق، امریکی دفتر خارجہ کے کمپیوٹرز سے کئی ٹریلین بائٹ کا ڈیٹا چرایا ہے۔ واشنگٹن کے انفارمیشن سکیورٹی گروپ SANS انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ایلن پیلر کے بقول، ’’ چین سے ہونے والے حملوں کی تعداد میں کمی نہیں ہورہی بلکہ ان میں برابر اضافہ ہی ہورہا ہے۔‘‘

امریکی قومی سلامتی کے ادارے کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران ہیکنگ کے واقعات میں 650 فیصد کی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اس میں تجارتی نوعیت کی ہیکنگ کو شامل نہیں کیا گیا۔ تیل و گیس اور مالیاتی شعبے سے متعلقہ متعدد امریکی کمپنیوں نے ہیکنگ کی شکایات کی ہیں۔ بظاہر ایسی کمپنیاں ہیکنگ کے نشانے پر ہیں جو سرکاری چینی کمپنیوں سے تجارت کر رہی ہیں یا وہ ایک ہی شعبے میں دونوں کی تجارتی حریف ہیں۔

Nuklear Konferenz Obama und Hu Jintao

امریکہ اور چین ایک دوسرے کے بڑے تجارتی حریف تصور کیے جاتے ہیں

وکی لیکس سے حاصل شدہ خفیہ سفارتی کیبلز کے مطابق امریکی دفتر خارجہ ان ہیکرز کو چین کی پیپلز لبریشن آرمی کا حصہ قرار دیتی ہے۔ ان حملوں کو Byzantine Hades کا کوڈ نام دیا گیا ہے۔ نجی سطح پر امریکیوں کی جانب سے طویل عرصے سے یہی دعویٰ کیا جارہا ہے تاہم فی الحال اس سلسلے میں ٹھوس ثبوت عام نہیں کیے گئے۔ سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سفارتی کیبلز کے مطابق Byzantine Hades کے بیشتر سائبر حملوں میں وہی تکنیک دیکھی گئی ہے جس کے تانے بانے چین کے Chengdu صوبے میں قائم فوج کے برقی جاسوسی یونٹ سے جوڑے جاسکتے ہیں۔

امریکی کانگریس نے ان امور پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی طور پر یو ایس، چائنا اکانومک اینڈ سکیورٹی کمیشن نامی ایک پینل قائم کر رکھا ہے۔ اس کمیشن کی ایک رپورٹ میں بھی چینی فوج کے ٹیکنیکل یونٹ پر شک ظاہر کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی و چینی حکومتی عہدیداروں سے باضابطہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم بیجنگ اور واشنگٹن دونوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM