1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سائبرکرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات

سائبرکرائم ایک وبا کی طرح اپنی جڑیں پھیلا رہا ہے، کیونکہ اس میں ملوث مجرم کمپیوٹر پر روز بروز بڑھتے ہمارے انحصار ہی کو ہمارے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ 'انٹرپول' کے سربراہ بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔

default

انٹرنیٹ مجرم بھی اتنے ہی اصلی ہیں جتنا کہ عام چور ،فرق صرف اتنا ہے کہ یہ دکھائی نہیں دیتے

بین الاقومی پولیس کی طرف سے دنیا کی پہلی 'اینٹی سائبرکرائم' کانفرنس جمعہ کے روز ہانگ کانگ میں اپنے اختتام کو پہنچی۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے تین سو قانون ساز اداروں کے اہلکاروں نے حصہ لیا اور دنیا بھر میں سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے خطروں پر تبادلہء خیال کیا۔ اس موقع پر انٹرپول کے جنرل سیکرٹری رونلڈ نوبل نے سائبرکرائم کی ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم ملزموں نے ان کے نام سے بھی 'فیس بک' پر دو جعلی اکاونٹس بنائےہیں۔ان میں سے ایک ملزم نے ان میں سے ایک اکاؤنٹ کو انٹرپول کی جانب سے مجرموں کے خلاف کی جانے والی بعض کارروائیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے بھی استعمال کیا۔

Facebook Nutzer User Computer Datenschutz Internet Web 2.0 NO FLASH

انٹرپول کے جنرل سیکرٹری رونلڈ نوبل کے بھی نامعلوم ملزموں نے 'فیس بک' پر دو جعلی اکاونٹس بنائے

رونلڈ نوبل نے بدھ کو ہانگ کانگ کے پولیس ہیڈکواٹر میں شروع ہونے والی اس کانفرنس میں کہا کہ سائبرکرائم ایک بہت بڑے خطرے کے طور پر اُبھر رہا ہے۔ انٹرنیٹ پرممکنہ گمنامی نے اس کو شاید اب تک کا سب سے سنگین اور خطرناک جرم بنا دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا 'مجرم کسی بھی ملک کے بنیادی ڈھانچے پر بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ صرف تصور کریں کہ اگر یہ مجرم کسی طرح ہمارے بینکنگ نظام یا بجلی گھروں پر حملہ کردیں تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ ہم اب تک کافی خوش نصیب رہے ہیں کہ ان مجرموں نے اب تک ایسے حملے یا تو کئے نہیں یا پھر ہمیں ان کا علم نہیں ہے مگر ایسا کب تک رہے گا؟ '

اس مسئلے کو جمعرات کو ہانگ کانگ میں ہی انٹرنیٹ سکیورٹی کمپنی 'سائمنٹک' نے اپنی ایک نئی رپورٹ جاری کرنے کے موقع پر بھی اُٹھایا۔

'دی 2011 نورٹون سائبر کرایم رپورٹ: دی ہیومن امیکٹ اسٹڈی' کے نام سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباﹰ دو تہائی صارفین کسی نہ کسی طرح سے انٹرنیٹ جرائم کا شکار ہوئے ہیں۔

چین ایسے جرائم سے متاثر ہونے والوں میں 83 فیصد لوگوں کے ساتھ سرِفہرست ہے، بھارت اور برازیل 76فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر جبکہ امریکہ 73 فیصد کے ساتھ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔

سات ہزار افراد پر مشتمل اس تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسی فیصد لوگوں کو یقین ہے کہ انٹرنیت کے ان مجرموں کو کبھی نہیں پکڑا جائے گا۔ اور اس سع بھی کم لوگوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کی پولیس میں رپورٹ درج کروائی ہے۔

Internet Cafe in China Internet Zensur Amnesty International fordert amerikanische Firmen auf freiheitliche Rechte in China einzufordern

چین سائبرکرائم سے متاثر ہونے والوں میں 83 فیصد لوگوں کے ساتھ سرِفہرست ہے

سائمنٹک کمپنی کی سینیئر ڈائریکٹر 'سٹیسی وو' کا کہنا ہے کہ کمپنی کے صرف چین میں واقع سکیورٹی فراہم کرنے والے سرور کو روزانہ ایک لاکھ سائبر کرائم خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ بات اب صرف انٹرنیٹ پر موجود اسکول کے بچوں کی شرارت نہیں رہی، بلکہ اب یہ ایک باقاعدہ اور منظم جرم کی شکل اختیار کرگیا ہے، جس میں مجرم 20 سے30 لوگوں کے کریڈٹ کارڈ سے 20 ڈالر تک کی چھوٹی رقم چرا سکتے ہیں یا پھر کسی بھی شخص کے کریڈٹ کارڈ کی معلومات بلیک مارکیٹ میں پانچ سے بیس ڈالر میں بیچ دیتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص انٹرنیٹ کورقوم کی ترسیل کے لئے بہت زیادہ استعمال کرتا ہو تو اسکی معلومات کافی مہنگی بھی بیچی جاسکتی ہیں۔

امریکی پولیس کے مطابق انٹرنیٹ مجرم ایک ہفتے کے دوران 23 ہزار ڈالر تک کما سکتے ہیں۔انٹرنیٹ سوسائٹی ہانگ کانگ کے ایک اہلکار 'جوزف کی یِنگ' کے مطابق لوگوں اور اداروں کو بہت محتاط رہنا چاہیے کیونکہ انٹرنیٹ مجرم بھی اتنے ہی اصلی ہیں جتنا کہ عام چور ،فرق صرف اتنا ہے کہ یہ دکھائی نہیں دیتے۔

رپورٹ : سمن جعفری

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس