1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

’زیکا وائرس‘ مسلسل پھیلتا ہوا

لاطینی امریکا سے وطن واپس لوٹنے والے ایک ڈینش شہری میں زیکا وائرس کی تشخص ہو گئی ہے۔ یہ وائرس لاطینی امریکا کے کئی ممالک کو متاثر کر چکا ہے اور پھیلتا جا رہا ہے۔

منگل کے روز مشرقی ڈنمارک کے ایک ہسپتال نے مریض میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل برطانیہ نے بھی جنوبی امریکا سے لوٹنے والے متعدد افراد میں اس وائرس کی تشخیص کا بتایا تھا جب کہ ہالینڈ نے بھی اسی خطے سے واپس آنے والے دس افراد میں زیکا وائرس کی تشخیص کی تھی۔

اے ای ڈیز ایجیپٹی مچھر کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہونے والا زیکا وائرس زکام کا باعث بنتا ہے، تاہم لاطینی امریکا میں خصوصاﹰ برازیل میں اس وائرس کے شکار نوزائیدہ بچوں میں یہ وائرس سر کے حجم میں غیرمعمولی کمی کا باعث دیکھا گیا ہے۔ اس وائرس سے تحفظ کی فی الحال کوئی دوا یا علاج موجود نہیں ہے۔

زیکاوائرس متاثرہ ممالک

بین الامریکا تنظیم برائے صحت (PAHO) کے مطابق اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 22 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ تعداد ایک ماہ قبل کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وائرس براعظم شمالی اور جنوبی امریکا میں چلی اور کینیڈا کے علاوہ تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

پہلی بار یہ وائرس سن 1974ء میں یوگینڈا میں دریافت کیا گیا تھا، جب کہ شمالی اور جنوبی امریکا میں سن 2014ء تک یہ وائرس موجود نہیں تھا۔

عالمی ادارہ صحت کے علاقائی بازو PAHO کے مطابق اس وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری زیادہ خطرناک نہیں تاہم نوزائیدہ بچوں کے لیے یہ وائرس تباہ کن ہو سکتا ہے اور ان کے دماغ کو غیرمعمولی طور پر متاثر کر سکتا ہے۔

اس وائرس سے متعلق چند حقائق

یہ وائرس مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے اور اس وائرس کے پھیلاؤ میں وہی وائرس ملوث ہے، جو ڈینگی وائرس، چیکُنگیا بخار اور پیلا بخار جیسے بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتا ہے۔

زیکا وائرس بالغ افراد کے لیے عمومی طور پر زیادہ خطرناک نہیں ہوتا اور اس کی علامات جلد کی سوزش، بخار، پٹھوں اور جوڑوں میں درد کی صورت میں سامنے آتی ہیں اور سات روز تک رہ سکتی ہیں۔ اس وائرس سے متاثرہ افراد کو عموماﹰ علاج کے لیے ہسپتال بھی نہیں جانا پڑتا۔

براعظم شمالی اور جنوبی امریکا میں اب تک اس وائرس کی وجہ سے کسی موت کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں، تاہم پہلے سے موجود کوئی بیماری اس وائرس کی وجہ سے سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے اور نتیجہ موت کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔

محققین کے مطابق ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ زیکا وائرس دماغ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، جس کی وجہ سے اس وائرس کے شکار نوزائیدہ بچوں کے سر کا حجم عام بچوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ فی الحال ماں سے اس وائرس کی بچے میں منتقلی سے متعلق معلومات ’انتہائی محدود‘ ہیں۔

برزیل کے شمال میں اس وائرس کے شکار نوزائیدہ بچوں کے سروں کے سائز میں کمی کے متعدد کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ برازیل کی وزارت صحت کے مطابق جنوری کے ماہ میں 16 جنوری تک صرف دس روز میں سر کے سائز میں کمی کے 3893 کیسز سامنے آئے۔