1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

زیر سمندر سرنگ کے ذریعے برطانیہ پہنچنے کی کوشش

فرانس کے ساحلی شہر کَیلے کے کیمپ میں مقیم آٹھ سو سے زائد تارکین وطن نے برطانیہ اور فرانس کو ملانے والی زیر سمندر سرنگ، ’یورو ٹنل‘ کے ذریعے برطانیہ جانے کی کوشش کی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے کیَلے کی مقامی انتظامیہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کے دن آٹھ سو سے ایک ہزار کے لگ بھگ پناہ گزین چینل ٹنل کے قریب جمع ہوئے اور انہوں نے برطانیہ جانے کی کوشش کی۔

’چینل ٹنل‘ کو ’یورو ٹنل‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ زیر سمندر سرنگ برطانیہ اور فرانس کو آپس میں ملاتی ہے۔ زیر سمندر بنائی گئی اس پچاس کلو میٹر طویل سرنگ میں ٹرین کے ذریعے گاڑیوں اور ٹرکوں کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک منتقل کیا جاتا ہے۔

فرانسیسی پولیس کے مطابق اس تازہ واقعے سے قبل ایک روز میں اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین یورو ٹنل پر جمع نہیں ہوئے۔

کَیلے شہر کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ٹنل کے قریب پہنچنے کے بعد کئی پناہ گزینوں نے ٹریفک کی رفتار سست کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ ٹرکوں میں سوار ہو سکیں۔‘‘

ٹنل کے قریب موجود اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق انہوں نے کچھ تارکین وطن کو ٹرکوں پر سوار ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔ فرانسیسی پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جب پولیس مہاجرین کو اس غیرقانونی اور خطرناک سفر سے روکنے کے لیے وہاں پہنچی تو ’’تارکین وطن نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا، جس پر پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔‘‘

یہ تارکین وطن فرانس کے ساحلی شہر کیَلے میں موجود پناہ گزینوں کے ایک عارضی کیمپ میں مقیم ہیں۔ عارضی بنیادوں پر بنائے گئے اس کیمپ کی صورت حال نہایت مخدوش ہے اور اسے ’جنگل‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اس کیمپ میں مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے پینتالیس سو تارکین وطن مقیم ہیں۔ بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ آنے والے تارکین وطن کی جانب سے اکثر یورو ٹنل کے ذریعے برطانیہ داخل ہونے کی کوششوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔

گزشتہ مہینے سوڈان سے تعلق رکھنے والا ایک سولہ سالہ پناہ گزین یورو ٹنل میں داخل ہونے کی کوشش کی دوران ایک تیز رفتار گاڑی سے ٹکرا کر ہلاک ہو گیا تھا۔ جون سے اب تک کیَلے سے برطانیہ جانے کی کوشش کرنے والے اٹھارہ تارکین وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔

DW.COM