1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زیرحراست ہتک آمیز سلوک ہوا، پاکستانی طالب علم

برطانیہ میں دہشت گردانہ حملوں کی مبینہ منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار 10 پاکستانی طالب علموں میں سے ایک، رہائی کے بعد جمعرات کو اپنے وکیل کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

default

اپریل میں برطانوی پولیس نے مختلف جگہوں پر چھاپوں کے دوران ان طلبہ کو حراست میں لیا تھا

پاکستانی صوبہ سرحد کے شورش زدہ علاقے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم طارق رحمان نے اسلام آباد آمد کے بعد ہوائی اڈے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ برطانوی حکام ان پر لگائے گئے کسی الزام کو ثابت نہیں کر سکے، جس کے نتیجے میں انہیں رہائی نصیب ہوئی۔

تاہم طارق رحمان کے بقول برطانوی حکومت کے ’’تضحیک آمیز‘‘ سلوک پر وہ احتجاجاً اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر وطن واپس آ گئے ہیں۔ پاکستانی طالب علم نے برطانیہ میں زیر حراست گزرے 62 ایام کی تلخ یادوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا : ’’ہمیں بدنام زمانہ حراستی مرکز میں پیشہ ور مجرموں کے ساتھ بند رکھا گیا اور اس دوران ہمیں شدید ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔‘‘

برطانیہ میں بدستور زیر حراست باقی پاکستانی طالب علموں کے حوالے سے طارق رحمان نے بتایا کہ وہ سب بھی اپنی تعلیم مکمل کر کے جلد سے جلد وطن واپس لوٹنا چاہتے ہیں۔ طارق رحمان نے اپنی رہائی کے لئے کوششوں پر پاکستانی حکومت اور خاص طور پر لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر زیر حراست 3 دیگر پاکستانی طلبہ کے وکیل امجد ملک نے کہا کہ برطانیہ میں قید باقی 9 طالب علموں کو بھی مذہبی انتہاء پسندی میں ملوث ہونے کے الزام پر انتہائی ’’ہتک آمیز سلوک‘‘ کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مؤکلوں کے لئے انصاف کے حصول کے لئے پر امید ہیں۔

خیال رہے کہ مانچسٹر پولیس نے 8 اپریل کو برطانیہ بھر کےمختلف مقامات پر چھاپے مار کر جن 10 پاکستانی طالب علموں کو گرفتار کیا تھا ان میں سے 9 کا تعلق صوبہ سرحد جبکہ 1 کا صوبہ پنجاب کے ضلع ناروال سے ہے۔ ان طالب علموں کی گرفتاری کو 2 ماہ مکمل ہونے پر گزشتہ پیر کو ان کے لواحقین نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی اور برطانوی حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ ان طلبہ کو رہا کر کے تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دیں تا کہ ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

رپورٹ : شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت : گوہر نذیر گیلانی