1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

زیادہ پانی پینا بھی صحت کے لیے نقصان دہ

ایک تحقیق کے مطابق بہت زیادہ پانی پینا صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ ضرورت سے کم پانی پینا۔

default

ایسا کیوں ہے کہ ہم اپنے دفتر کے ساتھیوں کو ہاتھوں میں دو لیٹر پانی کی بوتل پکڑے لنچ ٹائم میں جاگنگ کرتے دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب لمبی دوڑ میں حصہ لینے والے کھلاڑی 42.1 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے دوران کم سے کم پانی کا استعمال کرتے ہیں؟

یہ سوال ایک معمہ ہی نہیں بلکہ میلبورن یونیورسٹی کے محقق ایرک سیل کے مطابق ایک پریشان کن امر ہے۔ آسڑیلیا کے میڈیکل جرنل میں حالیہ شائع ہونے والی ان کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بہت زیادہ پانی پینا صحت کے لیے اتنا ہی بُرا ہو سکتا ہے جتنا کہ ضرورت سے کم پانی پینا۔

Lage in Gaza - Flash-Galerie

زیادہ پانی پینا بھی نقصاند دہ ہو سکتا ہے

تحقیق کے مطابق ضرورت سے زیادہ پانی کے استعمال سے ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے طبی اصلاح میں Exercise-associate hyponatraemia کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے، جس میں بہت زیادہ پانی پینے سے جسم میں موجود سوڈیم کی ضروری مقدار خطرناک حد تک رقیق ہو جاتی ہے جو الٹیوں، سرسام یہاں تک موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

اپنی اس تحقیق کے لیے سیل اور ان کے ساتھیوں نے ان آسٹریلوی باشندوں کے صحت سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا، جنہوں نے پاپوا نیوگینیا میں واقع Kokoda Trail کا 96 کلو میٹر فاصلہ پیدل طے کیا تھا۔

ان کی تحقیق میں 48 سالہ ایک ایسی خاتون کا کیس وضاحت سے بیان کیا گیا ہے جنہیں یہ فاصلہ پیدل طے کرنے کے دوسرے دن سر میں شدید درد کی شکایت پیدا ہو گئی تھی۔ اس خدشے کے پیش نظر کہ انہیں ڈی ہائڈریشن یا جسم میں پانی کی کمی کا سامنا ہے، خاتون نے سات لیٹر پانی چند گھنٹوں کے دوران پی لیا۔ اس کے بعد الٹیوں اور سرچکرانے کی شکایت کے بعد وہ کوما میں چلی گئیں۔ ان کے ساتھ موجود ڈاکٹروں نے ان کی اس کیفیت کی وجہ EAH تشخیص کی تاہم بروقت طبی امداد کی فراہمی کے بعد اس خاتون کی جان بچ گئی۔

Olympia Peking Rudern Damen Annekatrin Thiele und Christiane Huth

پانی اتنا ہی پینا چاہئے جتنی پیاس ہو

اپنی تحقیقی رپورٹ میں سیل کا کہنا ہے، ’’ Kokoda Track پر 2009ء میں چار ہائکرز کی ہونے والی غیر واضح اموات بلکل اُسی حالت میں ہوئیں جو اُس خاتون کی تھی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب اس بات کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ لوگوں میں ضرورت سے زیادہ پانی کے استعمال اور EAH کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے‘‘۔

سیل کے مطابق مردوں کے مقابلے میں خواتین EAH سے متاثر ہونے کے خطرے کا زیادہ سامنا کرتی ہیں اور اس صورتحال کو انرجی ڈرنکس کا استعمال زیادہ خطرناک رخ دے سکتا ہے۔

سیل اور ان کے ساتھیوں نے اس صورتحال سے بچنے کے لیے مشورہ دیا ہے کہ پانی، پیاس کے حساب سے ہی پینا چاہئے نہ کہ متوقع پیاس کے پیش نظر کئی لیٹر پانی پی لینا چاہئے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM