1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زیادہ سے زیادہ شامی مہاجرین لبنان میں

شام کے ابتر حالات سے تنگ آئے ہوئے شہری ہمسایہ ملک لبنان کا رخ کر رہے ہیں۔ بیروت حکومت کے لیے ان مہاجرین کو اشیائے ضرورت فراہم کرنا زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اسے خدشہ ہے کہ شام کے مذہبی فسادات لبنان بھی پہنچ سکتے ہیں۔

شامی مہاجرین لبنانی سرحد پر

شامی مہاجرین لبنانی سرحد پر

لبنان کا سرحدی قصبہ البُقایہ آج کل شام کے حالات سے تنگ آ کر گھر بار چھوڑنے والے مہاجرین کے لیے ایک اہم پناہ گاہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے پانچ ہزار شامی مہاجرین سرحد عبور کر کے یہاں پہنچے، ان میں زیادہ تعداد بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد کی تھی۔ ان شامیوں کا قصبہ تل کالاخ سرحد کے دوسری طرف پہاڑیوں کی اوٹ میں دو کلومیٹر دور واقع ہے، جسے شامی دستوں نے گزشتہ ہفتے کے روز ہی گھیرے میں لے لیا تھا۔

ایک شامی مہاجر نے بتایا:’’حالات کافی عرصے سے تناؤ کا شکار تھے۔ ہر طرف ٹینک تھے اور مختلف گھرانوں کی کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح وہاں سے نکل جائیں۔ کھانے کو بھی کچھ نہ تھا، بجلی بھی نہیں تھی اور لوگوں کو گرفتار بھی کیا جا رہا تھا۔‘‘

گزشتہ ہفتے پانچ ہزار شامی مہاجرین سرحد عبور کر کے لبنان پہنچے

گزشتہ ہفتے پانچ ہزار شامی مہاجرین سرحد عبور کر کے لبنان پہنچے

بالآخر فوج یا ملیشیا نے ان افراد پر، جن میں تین شامی فوجی بھی شامل تھے، فائرنگ شروع کر دی۔ یہ فوجی غالباً اپنے ہم وطنوں پر گولی نہیں چلانا چاہتے تھے۔ ان میں سے ایک فوجی سرحد عبور کرنے کے بعد لبنان پہنچ کر اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔

منگل کو لبنان کے حکام نے باقی دو فوجیوں کو شام کے حوالے کر دیا حالانکہ حقوق انسانی کی علمبردار تنظیموں نے بھگوڑے فوجیوں کے لیے سنگین نتائج سے خبردار کیا تھا۔ اِس سے ایک طرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قدرے چھوٹے ملک لبنان کی مغرب نواز حکومت شام میں گزشتہ دو ماہ سے جاری مظاہروں سے کس قدر گھبرائی ہوئی ہے۔ دوسری طرف اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ شام کے مستقبل کے حوالے سے لبنان کے سیاسی حلقوں کی سوچ بھی یکساں نہیں ہے۔

امریکی یونیورسٹی بیروت سے وابستہ ہلال کاشان بتاتے ہیں:’’لبنان کے سیاسی حلقے شام کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ شام اور ایران نواز حزب اللہ تحریک امید کر رہی ہے کہ شامی صدر بشار الاسد اِس سیاسی بحران سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ اِس کے برعکس وزیر اعظم حریری کے اردگرد جمع مغرب نواز حلقے دمشق میں حکومت کی تبدیلی کی امید رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

لبنان پہنچنے والے شامی مہاجرین کی بڑی تعداد بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد پر مشتمل ہے

لبنان پہنچنے والے شامی مہاجرین کی بڑی تعداد بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد پر مشتمل ہے

شامی مہاجرین کو اپنے ملک میں سیاسی تبدیلی کے امکانات سے زیادہ اپنی جان کی فکر ہے۔ شام سے فرار ہو کر لبنان آنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ اسد کی سیاہ لباس میں ملبوس ملیشیا بکتر بند گاڑیوں سے شہریوں پر فائرنگ کرتی ہے اور اُن پر دستی بموں سے حملے کرتی ہے۔

لبنان کو، جس کی آبادی کا ایک تہائی مسیحی، ایک تہائی سنی اور ایک تہائی شیعہ ہے، یہ فکر ہے کہ شام کے مذہبی فسادات سرحد پار کر کے لبنان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ شام کی تین چوتھائی آبادی سنی العقیدہ ہے جبکہ علوی شیعہ عقیدہ رکھنے والوں کی تعداد محض دَس فیصد ہے، جس کے ارکان حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

رپورٹ: اُلرش لائڈہولٹ (عمان) / امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس