1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زیادہ تر افغان امریکی فوج کی موجودگی کے حامی ہیں، حکومتی اہلکار

افغان صدر حامد کرزئی کے مشیر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر افغان باشندے امریکہ کے ساتھ دیرپا سکیورٹی معاہدے کے حامی ہیں۔

default

بدھ کے روز افغان صدر حامد کرزئی کے سینئر مشیر تاج ایوبی نے کہا کہ افعان حکومت میں بعض افراد امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے حوالے سے کیے جانے والے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایوبی نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ افغان حکومت کے وہ کون سے عہدیدار ہیں، جو امریکی افواج کے افغانستان میں طویل مدت تک قیام کے مخالف ہیں۔ آیا کہ ان عہدیداروں کے روابط ایران کے ساتھ ہیں یا پھر وہ پاکستان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ افغانستان اور امریکہ کے درمیان اس نوع کا ایک سکیورٹی معاہدہ مجوزہ مسودے کی شکل میں موجود ہے۔ اس مسودے کی رو سے امریکہ سن دو ہزار چودہ تک افغان افواج کے، یا امریکہ اور افغانستان کے مشترکہ فوجی اڈے استعمال کر سکے گا۔ امریکی حکومت کے سینئر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاہدے کا مقصد افغانوں کو یہ باور کرانا ہے کہ دو ہزار چودہ کے بعد امریکہ افغانستان سے منہ نہیں موڑے گا اور دہشت گردی کے خلاف وہ افغانستان کی مدد کرتا رہے گا۔

Die Kosten des Anti-Terror-Krieges der USA Flash-Galerie

اس مسودے کی رو سے امریکہ سن دو ہزار چودہ تک افغان افواج کے، یا امریکہ اور افغانستان کے مشترکہ فوجی اڈے استعمال کر سکے گا۔

 

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی صرف افغان حکومت کی درخواست پر ہی ممکن ہو سکے گی۔

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ افغانستان کے زیادہ تر باشندے طویل جنگ اور افغان سر زمین پر غیر ملکی افواج سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد اپنے ہاں غیر ملکی فوج کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ طالبان عسکریت پسند بھی افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلاء چاہتے ہیں۔ تاہم افغان صدر حامد کرزئی اور افغان حکومت کے اعلیٰ عہدیدار متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کے حوالے سے طویل المدت تعلقات چاہتے ہیں۔ امریکی حکومت میں بھی یہ رائے پائی جاتی ہے کہ 1990 کی دہائی کے برخلاف اس مرتبہ امریکہ کو افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

 

DW.COM