1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زیادتی کی شکار دس سالہ پاکستانی لڑکی سپریم کورٹ کی تحویل میں

پاکستانی سپریم کورٹ نے استحصال و زیادتی کی شکار اور ایک اہم مقدمے کی مرکزی کردار ایک دس سالہ لڑکی کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اس نابالغ بچی کی کہانی منظر عام پر آنے کے بعد ’پوری پاکستانی قوم سکتے‘ میں آ گئی تھی۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ گیارہ جنوری کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس لڑکی کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے اب اسے بچوں کی نگہداشت کے ایک مرکز میں بھجوا دیا ہے۔

اس بچی کو عدالت عظمیٰ نے آج اس وقت اپنی تحویل میں لیا، جب اسلام آباد میں سپریم کورٹ اس حوالے سے ایک مقدمے کی سماعت کر رہی تھی، جس میں پہلی بار یہ بچی اور اس کے والدین بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ بچی ایک بااثر جج کے گھر پر ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی اور اسے اس جج اور اس کی اہلیہ نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

آج کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس بچی کے والد سے یہ بھی پوچھا کہ آیا اس نے مالی امداد کے بدلے اپنی بیٹی پر مبینہ تشدد کرنے والے افراد کو ’معاف‘ کر دیا ہے۔

آج کی سماعت کے دوران یہ بچی کمرہ عدالت میں حیرت زدہ لیکن خاموش بیٹھی رہی جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے حکم دیا کہ اس مقدمے کی 18 جنوری کے روز اگلی سماعت تک یہ لڑکی عدالت کی حفاظت میں لیکن ایک چائلڈ کیئر سینٹر میں رہے گی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے غربت کے شکار حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ ظلم و زیادتی کا شکار ہونے والے متاثرہ افراد مالی ادائیگیوں کے بدلے ظالموں کو معاف کر دیتے ہیں۔

Oberster Gerichtshof von Pakistan in Islamabad (picture-alliance/dpa)

بدھ گیارہ جنوری کے روز اس دس سالہ بچی پر ظلم اور تشدد کے مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی کی

جہاں تک اس بچی اور اس کے والدین کی شناخت کا تعلق ہے تو مقامی میڈیا کے باعث ان کی شناخت سے اب ہر کوئی واقف ہے تاہم نیوز ایجنسی اے پی نے پھر بھی اس بچی اور اس کے والدین کی شناخت اس لیے ظاہر نہیں کی کہ اس طرح اس بچی اور اس کے والدین کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا پھر وہ ممکنہ طور پر مزید استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اس مقدمے کی ایک اہم بات آج ہی طب قانونی کے ماہرین کی طرف سے عدالت کو بتائے جانے والے یہ حقائق بھی تھے کہ اس بچی کے جسم پر جلائے جانے کی وجہ سے کم از کم 22 ایسے حالیہ یا پرانے زخموں کے نشانات بھی موجود ہیں، جو بظاہر اس امر کا ثبوت ہیں کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اس بچی پر کیا جانے والا تشدد اسی مہینے اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب اس کی کئی بہت پریشان کن تصویریں اچانک سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تھیں۔ ان تصویروں میں اس کے جسم اور چہرے پر تشد دکی وجہ سے آنے والے زخم اور جگہ جگہ پڑنے والے نیل بھی دیکھے جا سکتے تھے۔

DW.COM