1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

زہریلے پانی سے پاکستان کی سب سے بڑی جھیل کا ناقابل تلافی نقصان

دریائے سندھ کے مغرب میں واقع منچھر جھیل پاکستان میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ لیکن اس میں شامل ہونے والا صنعتی، زیریلا اور گٹروں کا پانی اس کے قدرتی حسن، پودوں، پرندوں اور مچھلیوں کو کھاتا جا رہا ہے۔

محمد یوسف اس جھیل کے کنارے رہنے والا ایک مچھیرا ہے اور اس کے لیے اب جھیل پر زندگی گزارنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’جب ہم جوان تھے تو ہماری زندگی بہت اچھی تھی۔ ہر طرح کی مچھلیاں موجود تھیں اور ہماری آمدنی بھی ٹھیک ہوتی تھی۔ اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔‘‘

اس تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کے بارے میں محمد یوسف کا کہنا تھا، ’’پہلے میرے والد ایک سو کلو سے بھی زائد مچھلیاں پکڑ لیا کرتے تھے اب پانی زہریلا ہو چکا ہے اور مچھلیاں بھی ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔‘‘ اب یوسف صرف اتنی ہی مچھلیاں پکڑ پاتا ہے کہ اس کا بمشکل گزارہ ہو رہا ہے۔

 منچھر جھیل کا شمار پاکستان میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیلوں میں ہوتا ہے اور 250 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی اس جھیل کے سائز کا انحصار بارش پر ہے۔ 1970ء میں ایسے کئی نالے تعمیر کیے گئے تھے، جن کے ذریعے صوبہ سندھ کے کئی شہروں کے گٹروں کا پانی اس جھیل تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح صنعتی فضلہ بھی اس میں شامل ہوتا ہے اور فصلوں کے لیے استعمال کی جانے والی زہریلی دوائیاں بھی اس جھیل کے قدرتی حسن پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

دریں اثناء اس جھیل میں پہاڑوں سے آنے والے تازہ پانی کی مقدار میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس جھیل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے پاکستانی ماہی گیر فورم کے مصطفی میرانی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ  ڈیمز کی تعمیر، دریائے سندھ کے پانی میں بہاؤ کی تبدیلی اور وسیع تر ہوتے ہوئے آب پاشی کے نئے نظام کی وجہ سے بھی یہ جھیل متاثر ہو رہی ہے۔

1990ء میں کروائے جانے والے ایک جائزے کے مطابق نمکین اور کیمیکلز والے زہریلا پانی کی وجہ سے جھیل کا پانی زہریلا ہو رہا ہے۔ اس وقت تجویز کیا گیا تھا کہ گندے پانی والے نالوں کو مزید جنوب میں بحیرہ عرب کی طرف ری روٹ کر دیا جائے۔ لیکن فنڈز میں کمی کی وجہ سے یہ منصوبہ ملتوی کر دیا گیا تھا اور گندے پانی کا بہاؤ بلا کسی روک ٹوک کے آج تک اس جھیل میں جاری ہے۔

اس جھیل کا پانی اب پینے کے قابل نہیں رہا ہے۔ زہریلے پانی کی وجہ سے اس خطے کی خاص نباتات اور جانور مرتے جا رہے ہیں جبکہ سبزیاں اگانا بھی ناممکن ہو چکا ہے۔ پہلے ہجرت کرنے والے لاکھوں پرندے راستے میں اس جھیل پر قیام کیا کرتے تھے لیکن اب یہ شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔

سن 2010ء میں پاکستانی سپریم کورٹ نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا لیکن وہ بھی حکومت کو کارروائی کرنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہی تھی۔  مصطفی میرانی کا کہنا ہے، ’’یہ جھیل خدا کا دیا ہوا تحفہ ہے لیکن اس کی خوبصورتی کو برباد کر دیاگیا ہے۔‘‘