1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

زہریلی گیس کی قاتل گھاس خطرے میں

سمندر کی تہہ میں موجود ایک خاص قسم کی گھاس کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت کی حامل خیال کی جاتی ہے۔ تاہم خدشہ ہے کہ ضرر رساں گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کی قاتل یہ گھاس چند برس میں مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے

default

اس کی بڑی وجوہات میں جہازوں اور بڑی کشتیوں کی بغیر کسی منصوبہ بندی کے لنگر اندازی، سمندر میں کوڑا کرکٹ کے علاوہ فضائی درجہ حرارت میں اضافہ بھی شامل ہیں۔ اسپین میں بیلیرک جزائر کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم اور آبی نباتات کے ماہرین، حکام کی توجہ اس خطرے کی جانب مبذول کرانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

پالاما ڈے مایورکا کے ساحل پر بچےکھیل رہے ہیں اور سیاح سمندر کی موجوں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ساحل کے جنوب کی جانب ایک چٹان پر کارلوس دوآرتے ’ Carlos Duarte‘ کھڑے ہیں۔ بحیرہ روم کے بیلیرک جزائر نامی ادارے سے منسلک کارلوس بڑے غور سے سمندر کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول، ’’یہاں سمندر کی تہہ میں یہ گھاس بہت زیادہ اُگتی ہے۔ سمندر کے نیلے چمکتے پانی سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پوسیڈونیا نامی سمندری گھاس کاربن ڈائی آکسائیڈ کے فلٹر کے طور پر کام کرتی ہے۔ ایک ہیکٹر پر اگی یہ گھاس پانچ ہیکڑ پر پھیلے برساتی جنگلات سے زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن میں تبدیل کرتی ہے‘‘۔

Flash-Galerie USA Ölkatastrophe Golf von Mexiko

خلیج میکسیکو میں تیل کے رساؤ جیسے واقعات نے بھی آبی حیات کو بہت نقصان پہنچایا ہے

کارلوس کے بقول لوگوں کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ یہ کائی نہیں بلکہ ایک پودا ہے اور یہ بہت ہی نایاب ہے۔ یہ سمندری گھاس تحفظ ماحول کے لیے ہی نہیں بلکہ معاشرے اور آبی حیات کے لیے بھی بہت ہی ضروری ہے۔ مختلف اقسام کی مچھلیاں اور گھونگے ان سے غذا حاصل کرتے ہیں۔ کارلوس کہتے ہیں کہ یہ گھاس سمندری کناروں کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے، ’’ ہمیں اپنا طرز زندگی تبدیل کرنا ہو گا۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو اگلے پچاس سالوں میں اس سمندر کا رنگ سیاہ ہو جائے گا۔ سمندری گھاس نہیں اگے گی اور پانی کا معیار بہت خراب ہو جائے گا‘‘۔

اکثر اس گھاس کی وجہ سے سمندرکے اوپر بھی ایک تہہ سی بن جاتی ہے۔ یہ تہہ آبی حیات کے لیے مختلف ضرر رساں اجزاء کو یا تو جذب کر لیتی ہے یا انہیں اوپر ہی روک لیتی ہے۔ اس سے پانی بھی صاف ہو کر ساحلوں تک پہنچتا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران دنیا بھر میں اس سمندری گھاس میں تین فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس نازک پودے کو سب سے زیادہ نقصان ماحول میں ہونے والی تبدیلی کی وجہ سے پہنچ رہا ہے۔ پانی کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور گرم پانی میں یہ گھاس زندہ نہیں رہ پاتی۔کارلوس کے بقول اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اگلے پچاس برسوں میں اس گھاس کے مکمل طور پر ختم ہوجانے کے خدشات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیلیرک جزائر میں سیاحت کی وجہ سے بہت سمندری گھاس کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ جہازوں کی لنگر انداز ہونے کی وجہ سے یہ گھاس اکھڑ جاتی ہے۔

’’پانی کے کچھ حصوں میں فروزی رنگ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں گھاس نہیں اگ رہی۔ سمندری کی تہہ میں صرف شفاف ریت موجود ہے‘‘۔

Türkisches Kriegsschiff vor Zypern

سمندری راستوں سے تجارت میں اضافے کے بعد جہازوں کو لنگر انداز کرنے کے لیے موزوں مقامات کی کمی ایک مسئلے کی شکل اختیار کر رہی ہے

سمندروں کے تحفظ کی عالمی تنظیم اوشیانا کی طرف سے خبردار کرنے کے باعث بیلیرک جزائر کے حکام متحرک ہوئے ہیں۔ اب ان کی طرف سے اس گھاس کی حفاظت کے لیے مایورکا اور اس کے ارد گرد کے ساحلوں پر اقدامات کیے جارہے ہیں۔

اس حوالے سے ایسی جگہوں پر جہاں سمندری گھاس کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جہازوں اور بڑی کشتیوں کو لنگر انداز کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ جرمانہ ساڑھے چار لاکھ یورو تک کا ہے۔ لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ جرمانہ جتنا بھی ہو وہ تحفظ ماحول کے لیے انتہائی اہم اس گھاس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : افسر اعوان

DW.COM