1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

زچگی کے دوران اموات: پچیس سال میں شرح قریب نصف رہ گئی

گزشتہ پچیس برسوں کے دوران دنیا بھر میں زچگی کے دوران اور زچگی سے متعلق طبی پیچیدگیوں کے نتیجے میں خواتین میں شرح اموات تقریباﹰ نصف رہ گئی ہے۔ پھر بھی اس سال اب تک زچگی کا عمل تین لاکھ سے زائد خواتین کی جان لے چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور عالمی بینک کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق 1990ء اور 2015ء کے اب تک کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو عالمی سطح پر زچگی کے باعث پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے نتیجے میں خواتین کی جان چلے جانے کے واقعات میں 44 فیصد کمی آ چکی ہے۔

DW.COM

تاہم دوسری طرف یہ بات ابھی تک باعث تشویش ہے کہ مجموعی صورت حال مقابلتاﹰ بہتر ہو جانے کے باوجود اس سال کے دوران اب تک اسی طرح کی طبی پیچیدگیاں تین لاکھ تین ہزار سے زائد خواتین کی جان لے چکی ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین کی موت ایشیا اور افریقہ کے ترقی پذیر ملکوں میں ہوئی۔

برطانوی طبی تحقیقی جریدے ’دا لینسَیٹ‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق زچگی کے دوران پیدا ہونے والے طبی مسائل سے ماہرین کی مراد عام طور پر وہ پیچیدگیاں ہوتی ہیں، جن کا کسی بھی حاملہ خاتون کو دوران حمل یا پھر بچے کی پیدائش سے چھ ہفتے بعد تک کے عرصے کے دوران سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایسی وجوہات کی بنا پر 1990ء میں عالمی سطح پر پانچ لاکھ بتیس ہزار خواتین کی اموات ریکارڈ کی گئی تھیں، جو 2015ء میں اب تک کم ہو کر تین لاکھ تین ہزار رہ گئی ہیں۔ جنیوا سے جمعرات بارہ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس تحقیقی مطالعے میں عالمی ادارہ صحت WHO نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

عالمی ادارہ صحت کی تحقیق اور طب تولیدی سے متعلقہ امور کی رابطہ کار ڈاکٹر لیل سے Lale Say نے بتایا گزشتہ ربع صدی کے دوران ان وجوہات کی بنا پر عورتوں میں شرح اموات کم کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔ اس عرصے کے دوران ایسی ہلاکتوں کی شرح میں 44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، ’’یہ پیش رفت بہت حوصلہ افزا ہے لیکن یہ بہتری مختلف ملکوں اور خطوں میں مختلف تناسب سے دیکھنے میں آئی ہے۔‘‘

ماہرین کے مطابق انہی اعداد و شمار کو اگر ایک دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو 1990ء میں ہر ایک لاکھ زندہ پیدا ہونے والے بچوں کی ماؤں میں سے 385 حاملہ خواتین زچگی کے دوران یا زچگی کے چھ ہفتے کے بعد تک پیدا ہونے والے مسائل کے باعث موت کے منہ میں چلی جاتی تھیں۔ اب یہ تعداد کافی کم ہو چکی ہے اور ماہرین کو اندازہ ہے کہ اگلے برس 2016ء میں یہ شرح مزید کم ہو کر 216 رہ جائے گی۔

Unterernährung im Jemen

گزشتہ ڈھائی عشروں کے دوران سب سے زیادہ بہتری مشرقی ایشیائی ملکوں میں دیکھنے میں آئی

گزشتہ ڈھائی عشروں کے دوران اس حوالے سے سب سے زیادہ بہتری مشرقی ایشیائی ملکوں میں دیکھنے میں آئی، جہاں خواتین میں ہلاکتوں کی شرح 95 سے کم ہو کر 27 خواتین فی ایک لاکھ زندہ بچوں کی سطح تک آ گئی ہے۔

اقوام متحدہ نے اپنے لیے یہ ہدف مقرر کر رکھا ہے کہ 2030ء تک عالمی سطح پر زچگی کے دوران خواتین میں اموات کی شرح مزید کم کر کے 70 یا اس سے بھی کم خواتین فی ایک لاکھ زندہ بچوں کی سطح تک لائی جائے۔