1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

زيادہ تر افغان مہاجرين کو واپس بھيج ديا جائے گا، جرمن وزير

جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر نے آج پير یکم فروری کے روز اپنے دورہ افغانستان کے دوران کہا کہ جرمنی ميں سياسی پناہ کے متلاشی زيادہ تر افغان تارکين وطن کو ملک بدر کر ديا جائے گا۔

تھوماس ڈے ميزيئر کا اشارہ بالخصوص اُن افغان تارکين وطن کی طرف تھا جو محض بہتر معاش کی خاطر اپنے ملک کو چھوڑ کر جرمنی کا رُخ کر رہے ہيں۔ جرمن وزير داخلہ نے يہ بيان آج بروز پير افغان دارالحکومت کابل ميں ديا۔ اُن کے افغانستان کے دورے کا مقصد جرمنی کا رُخ کرنے والے افغان تارکين وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے ميں بات چيت ہے۔

گزشتہ برس جرمنی ميں تقريباً ڈيڑھ لاکھ افغان مہاجرين نے سياسی پناہ کی درخواستيں جمع کرائيں جبکہ 2014ء ميں يہ تعداد صرف 9,700 تھی۔ شامی پناہ گزينوں کے بعد پچھلے سال پناہ کے ليے يورپی ملک جرمنی پہنچنے والا تعداد کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا گروپ افغانيوں کا تھا۔

دورہ افغانستان کے موقع پر جرمن وزير داخلہ نے کہا، ’’بلا شبہ افغانستان ميں سلامتی کی صورت حال پيچيدہ ہے ليکن يہ کافی بڑا ملک ہے۔ وہاں غير محفوظ علاقے ہيں تو محفوظ علاقے بھی ہيں۔‘‘ ڈے ميزيئر کا مزيد کہنا تھا کہ ايسے افغان شہری جو سياسی پناہ کے حق دار نہيں، اُنہيں واپس اپنے ملک جا کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جانا چاہيے۔

جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر اور افغان صدر اشرف غنی

جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر اور افغان صدر اشرف غنی

جرمن وزير نے نيوز ايجنسی ڈی پی اے کو بتايا کہ افغانستان ميں سرگرم انسانوں کے اسمگلرز لوگوں ميں ايسی افواہيں پھيلا رہے ہيں کہ جرمنی ميں حالات ’جنت‘ کے مساوی ہيں۔ تھوماس ڈے ميزيئر کے مطابق زيادہ تر افغان تارکين وطن پناہ کی نہيں بلکہ بہتر معاشی حالات کی تلاش ميں ہجرت کر رہے ہيں۔

جرمن وزير نے افغانستان ميں اپنی زندگياں نئے سرے سے دوبارہ شروع کرنے والے افغان باشندوں کے ليے مالی امداد کو خارج از امکان قرار نہيں ديا۔ موجودہ جرمن قوانين کے تحت سياسی پناہ کے ناکام درخواست دہنگان، واپسی کے اخراجات کے ليے درخواست جمع کرا سکتے ہيں۔

واضح رہے کہ جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے اپنے ناقدين اور مخالفين کو يقين دہانی کرائی ہے کہ سال رواں ميں پناہ کے ليے جرمنی ميں داخل ہونے والے تارکين وطن کی تعداد ميں کمی متعارف کرائی جائے گی۔ گزشتہ برس شام، عراق، پاکستان، افغانستان اور شمالی افريقی ملکوں سے تقريبا 1.1 ملين پناہ گزين جرمنی پہنچے، جس کے سبب انتظاميہ کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔