1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

زووناریوا اور مرے آسٹریلین اوپن کے اگلے راؤنڈ میں

روسی ٹینس اسٹار ویرا زووناریوا آسٹریلین اوپن کے چوتھے راؤنڈ میں پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے یہ کامیابی چیک جمہوریہ کی لوسی سفاروفا کو ہرا کر حاصل کی ہے۔ اینڈی مرے اور روبن سودرلنگ نے بھی اگلے راؤنڈ کے لیے کامیابیاں سمیٹی ہیں۔

default

زووناریوا نے سفاروفا کو ہفتہ کے کھیل میں چھ تین، سات چھ (گیارہ نو) سے ہرایا، جو ان کی ڈبلز پارٹنر رہ چکی ہیں۔ انہوں نے پہلے سیٹ میں ہی سفاروفا کو اپ سیٹ کر دیا تھا جبکہ سیکنڈ سیٹ میں ان کی فتح یقینی دکھائی دینے لگی تھی۔

یہ وہ موقع تھا، جب زووناریوا نے سفاروفا کے لیے کھیل اور بھی مشکل بنا دیا۔ انہوں نے پے درپے ناقص شاٹس کھیلے۔ پھر بھی یہ کوئی آسان مقابلہ نہیں تھا اور سفاروفا نے اپنی حریف کھلاڑی کا جم کر مقابلہ کیا۔ اسی وجہ سے ویرا زووناریوا کو اپنی جیت پر مہر ثبت کرنے میں دوگھنٹے کا وقت لگا۔

زووناریوا آسٹریلین اوپن کا ٹائٹل جیت گئیں، تو وہ نمبر وَن کی پوزیشن پر پہنچ سکتی ہیں۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ہفتہ کے میچ سے پہلے ہی وہ سفاروفا کے مقابلے میں بہتر فارم میں دکھائی دے رہی تھیں اور میلبورن میں انہوں نے مسلسل دوسرے سال ٹورنامنٹ کے چوتھے راؤنڈ تک رسائی حاصل کی ہے۔

چھبیس سالہ ویرا زووناریوا روس کے شہر ماسکو سے ہیں۔ وہ گزشتہ برس یوایس اوپن اور ومبلڈن کے فائنلز تک بھی پہنچی تھیں۔ آسٹریلین اوپن کے اگلے راؤنڈ میں ان کا سامنا روسی کھلاڑی Anastasia Pavlyuchenkova یا Iveta Benesova سے ہو گا۔

مردوں میں عالمی نمبر پانچ اینڈی مرے اور سویڈن کے روبن سودرلنگ بھی اگلے راؤنڈ میں پہنچ گئے۔ اینڈی مرے نے اسپین کے گارشیا لوپیز کو چھ ایک، چھ ایک اور چھ دو سے پچھاڑا۔ وہ آسٹریلین اوپن کا فائنل جیتنے میں کامیاب رہے تو برطانیہ کے لیے گزشتہ 75 برس میں کسی گرینڈ سلیم ٹائٹل میں یہ پہلی فتح ہو گی۔

Flash-Galerie Sport Jahresrückblick 2010

سویڈن کے روبن سودرلنگ

اگلے راؤنڈ میں ان کا سامنا Baghdatis یا Jurgen Melzer سے ہو گا۔

مرے نے ہفتہ کے کھیل کے بعد کہا، ’میں نے پہلے تین میچز میں اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اور اس گرمی میں کھیل پر توجہ دینا مشکل ہو رہا ہے۔‘

روبن سودرلنگ نے جان ہیرنش کو چھ تین، چھ ایک اور چھ چار سے شکست دے کر اس ٹورنامنٹ کے آئندہ راؤنڈ تک رسائی حاصل کی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس