1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

زندہ مچھلی نگلنے والے ہزاروں بھارتی شہری آخر کیا چاہتے ہیں؟

ہر سال کی طرح اس برس بھی ہزاروں بھارتی باشندوں نے ملک کے جنوبی شہر حیدر آباد میں اپنی ناکوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے زندہ مچھلیوں کو نگلا۔ یہ بھارت میں دمے کے مرض کا ایک غیر معمولی روایتی علاج ہے۔

Indien lebende Fische essen gegen Asthma (Getty Images/AFP/N. Seelam)

حیدر آباد میں ’بٹھینی گوڑ‘ خاندان اس علاج معالجے کا انتظام کرتا ہے

ہر سال جون کے مہینے میں دمے کے مریض حیدر آباد شہر میں جمع ہوتے ہیں، جہاں انہیں پیلے رنگ کے ایک ہربل پیسٹ کے ساتھ ایک طرح کی مچھلی نگلنے کو دی جاتی ہے۔ دمے کے مرض میں مبتلا یہ افراد اس امید پر یہ مچھلی نگل لیتے ہیں کہ شايد اب انہیں سانس کی تکلیف سے آرام مل جائے۔ پانچ سینٹی میٹر لمبی بل کھاتی مُرل مچھلی جب ان مریضوں کے حلق سے اترتی ہے تو بیشتر افراد قے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حیدر آباد میں ’بٹھینی گوڑ‘ خاندان اس علاج معالجے کا انتظام کرتا ہے۔ اس خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ حلق سے اترتے ہوئے مچھلی گلے کو صاف کرتی ہے جس سے نہ صرف دمے کا بلکہ نظام تنفس کے دیگر مسائل کا بھی مستقل علاج ہو جاتا ہے۔

تاہم اس خاندان نے اس طریقہ علاج کا وہ خفیہ فارمولہ بتانے سے انکار کیا ہے جو بقول اُن کے سن 1845 میں اُن کے آباؤ اجداد کو ایک ہندو سادھو نے دیا تھا۔ دمے میں مبتلا بچوں کو مچھلی حلق میں اتارنے کے لیے اُن کے والدین کو بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئی بچے کی ناک پکڑتا ہے تو کوئی آنکھوں پر ہاتھ رکھتا ہے تاکہ وہ بل کھاتی زندہ مچھلی کو دیکھ کر دہشت زدہ نہ ہو جائیں۔ مچھلی نگلنے کے بعد مریضوں کو پینتالیس دن کی سخت غذا تجویز کی جاتی ہے۔

Indien lebende Fische essen gegen Asthma (Getty Images/AFP/N. Seelam)

جون کے ماہ کی مخصوص تاریخوں میں ہر سال بھارت بھر سے ہزاروں افراد دو دن کے مفت علاج کے لیے حیدرآباد آتے ہیں

جون کے ماہ کی مخصوص تاریخوں میں ہر سال بھارت بھر سے ہزاروں افراد دو دن کے مفت علاج کے لیے حیدرآباد آتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ علاج نہ صرف ’غیر سائنسی’ ہے بلکہ حفظان صحت کے اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ تاہم گوڑ فیملی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

DW.COM