1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

زندہ لاکھ کا تو مرا سوا لاکھ کا

ہاتھی دانت سے بنی اشیا کی مانگ میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جو براعظم افریقہ کے ہاتھیوں کے لئے ایک خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

default

تاریخ نے ہاتھی کی اہمیت کو ہمیشہ مانا ہے، جنگوں میں ہاتھی بہتر سواری کے طور پر کام آتے تھے۔ امن کے دنوں میں شاہی شان وشوکت کے لئے ہاتھی کو سنوارا جاتا تھا۔ سب سے بڑھ کر کہ ہاتھی کے لیے ہی ایک محاورہ بن چکا ہے کہ " ہاتھی زندہ ہوتو لاکھ کا اگر مردہ ہوتو سوا لاکھ کا" اس محاورے کی اس سے بہتر مثال اور کہاں ہوگی کہ" اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جنگلی تحفظ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ چین کے اندر ہاتھی کے دانت اور اس کے جسم کی دیگر ہڈیوں سے بنی اشیاء کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باعث افریقہ کےجنگلوں میں پائےجانے والے کے ہاتھیوں کی زندگیاں محفوظ نہں رہیں گی"

ہاتھی دانت کی بنی مصنوعات پر سال 1989 سے پابندی ہے۔ عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے اس اقدام کی وجہ ایشیائی اور افریقی ہاتھیوں کی نسل کو کسی حد تک بچا نی کی کوشش کی گئی تھی۔

Elefanten vor dem Kilimandscharo Flash-Galerie

ایک معروف خبررساں ادارے کے تجزئے کے مطابق، چینی اقتصادی ترقی نے چین میں پائے جانے والے امیر طبقے میں یہ خواہش پیدا کی ہے کہ ان کے ڈرائنگ روم میں افریقی ہاتھی دانت سے بنےکچھ شوپیس اور مجسمے رکھے ہوں۔ اس وجہ سے بھی افریقی ہاتھی کے مستقبل پر اچھا اثر نہں پڑے گا۔

ماضی میں بھی ہاتھی دانت کی سمگلنگ کا الزام چینی تاجروں پر لگایا جاتا رہا ہے۔ اسی تناظر میں بات کرتے ہوئے جنگلی حیاتیات کے ماہر اسمنڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ افریقہ کے جنگلوں میں اور دیگر سرحدی شہروں میں جہاں بھی ان مصنوعات کی فروخت ہوتی ہے، ان کے خریداروں میں 70 فیصد کا تعلق چین سے ہوتا ہے"

اسی کسی قسم کی تجارت اور سمگلنگ کی تصدیق سن 2007 میں CITES نامی ادارہ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کی ہے۔ یہ ادارہ اقوام متحدہ کی سر پرستی میں کام کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہر طریقے سے حین ہی ان مصنوعات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہوگا۔

لندن میں قائم موسمی اور جنگلی تحفظ کی ایک تنظیم نے بھی ایسا ہی ایک سروےکیا تھا جس میں کچھ ایسے چینی سمگلروں کی نشاندہی کی گئی جو افریقی ممالک میں ان مصنوعات کی غیرقانونی کاروبار میں ملوث ہونے کی وجہ سے گرفتار کئے گئے تھے۔

جنیوا میں قائم CITES کے ہیڈکوارٹر کے مطابق افریقہ میں کچھ ایسے چینی خاندان بھی مقیم ہیں جن کا ذریعہ معاش ہی یہ سمگلنگ بن چکا ہے، اسی ادارے کی نشاندہی پر کچھ لوگوں کوگرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔CITES کے مطابق جنوب میں چینی صوبے گوآننگ دنگ کا سرحدی ساحلی شہر گوآنگژو ان مصنوعات کی خریدوفروخت کا ایک اہم مرکز ہے۔

رپورٹ: عبدالرؤف انجم

ادارت: عدنان اسحاق