1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

زندگی کے مالیکیول دیکھنے والوں کے لیے کیمیا کا نوبل انعام

کریو الیکٹران مائیکرواسکوپی کے طریقہء کار کے ذریعے حیاتی مالیکیولوں کو قابل مشاہدہ بنانے والے محققین کے لیے کیمیا کے نوبل انعام کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ انعام اس طریقہ کار کے موجد تین سائنس دانوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

رائل سویڈش اکیڈمی کی جانب سے بدھ کے روز نوبل انعام برائے کیمیا کا اعلان کرتے ہوئے زندہ مادے کے مالیکیوں کو قابل مشاہدہ بنانے والے ان سائنس دانوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا ہے۔

طبعیات کا نوبل انعام تجاذبی موجیں ثابت کرنے والوں کے نام

طب کا نوبل انعام ’باڈی کلاک میں جھانکنے والے‘ تین ماہرین کے نام

 

یہ ایورڈ سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے 75 سالہ جیک ڈوبوشے، جو امریکی یونیورسٹی آف لوزیانہ میں بائیوفزکس (حیاتی طبیعات) کے اعزازی پروفیسر کے بہ طور کام کرتے ہیں، برطانوی سائنس دان 72 سالہ رچرڈ ہنڈرسن، جو کیمبرج کی ایم آر سی لیبارٹری برائے مالیکیولر بائیولوجی کے پروگرام کے سربراہ ہیں اور 77 سالہ ژوآخم فرانک، جو جرمن نژاد امریکی شہری ہیں اور اس وقت نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں بائیو کیمسٹری (حیاتی کیمیا) اور مالیکیولر سائنسز کے پروفیسر ہیں، کے نام رہا۔

ٹیکنالوجی، جس کی ایجاد پر انہیں نوبل انعام دیا گیا، انسانی آنکھ سے اوجھل حیاتی مالیکیولوں کو جوہری سطح پر غیرمعمولی تفصیل سے دِکھا سکتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی دیگر بہت سے مقاصد کے علاوہ ادویات سازی کے شعبے میں غیرمعمولی انداز سے استعمال کی جا رہی ہے۔

نوبل کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ’’بائیوکیمیکل نقشے دستیاب ٹیکنالوجی میں خلا کی وجہ سے مالیکیولر سطح پر حیاتی مادے کی تفصیل بتانے سے قاصر تھے، مگر کریو الیکٹران مائیکروسکوپی نے یہ تمام مسائل حل کر دیے۔ ہم بائیو کیمسٹری کے شعبے میں اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایک انقلاب دیکھ رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ کریو الیکٹران مائیکروسکوپی ہی کو حال ہی میں زیکا وائرس سے متاثر مالیکیولوں کے مطالعے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اس وائرس کے شکار نوزائیدہ بچوں کے سر غیرمعمولی طور پر چھوٹے ہوتے ہیں۔

نوبل انعام برائے کیمیا اس بار دیا جانے والا تیسرا نوبل انعام ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز طب کا نوبل انعام بائیوکلاک (حیاتی گھڑی) کے افعال اور اثرات پر تحقیق کرنے والے ماہرین حیاتیات کو دیا گیا تھا۔ منگل کو نوبل انعام برائے طبعیات کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ انعام سن 2015ء میں گریویٹیشنل ویوز (تجاذبی موجوں) کے براہ راست مشاہدہ پر دیا گیا۔ آئن اسٹائن نے سن 1915ء میں اپنے نظریہ اضافیت میں ان موجوں کی پیش گوئی کی تھی، تاہم اس کے سو برس بعد ان موجوں کو براہ راست ریکارڈ کیا جا سکا۔ ایک اعشاریہ تین ارب نوری سال کی دوری پر دو بلیک ہولز کے ٹکراؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی ان موجوں کا مشاہدہ لیگو (لیزر انٹرفیرومیٹر گریویٹیشنل ویو آبزرویٹری) کے تحقیقی پراجیکٹ کے ذریعے کیا گیا تھا، جسے علم طبعیات میں ایک نئے باب کے اضافے سے تعیبر کیا جا رہا ہے۔

DW.COM