1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زمین کے نظام شمسی کے سیارے 9ہیں یا12

پراگ میں ہونے والی ماہرین فلکیات کی 26ویں بین الاقوامی کانگریس میں ہزاروں مندوبین کے مابین اس بارے میں بحث جاری ہے کہ سائنسی طور پر سیارہ کس کو کہتے ہیں ۔ اگر ماہرین نے سیاروں کی نئی سائنسی تعریف پر اتفاق کرلیا تو زمین کے نظام شمسی میں موجود سیاروں کی تعداد 9سے بڑھ کر12ہو جائے گی۔

default

یہ امکان کافی زیادہ ہے کہ زمین کے نظام شمسی میں آئندہ غالباً کم ازکم تین نئے سیاروں کا اضافہ ہو سکتا ہے۔اس بارے میں چیک جمہوریہ کے دارلحکومت پراگ میں 14اگست سے شروع ہو کر25اگست تک جاری رہنے والی بین الاقوامی فلکیاتی یونین کی 26ویں انٹرنیشنل کانگریس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ 75ملکوں کے تقریبا2500 ماہرین فلکیات کے مابین ایک فلکیاتی جسم کے طور پر کسی سیارے کی نئی سائنسی تعریف پر علمی نوعیت کی تفصیلی بحث مسلسل جاری ہے۔ اگر سیارے کی نئی تعریف پر اتفاق رائے ہو گیا تو زمین کے نظام شمسی میںشامل سیاروں کی کل تعداد نو سے بڑھ کر کم ازکم بارہ ہو جائے گی۔ اس موضوع پر کسی اجتماعی نتیجے تک پہنچنے کے لئے ماہرین کے پاس اگلے ہفتے جمعے کے روزتک کا وقت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نظام شمسی کے نئے ممکنہ سیارے کوئی نو دریافت شدہ فلکیاتی اجسام نہیں ہوں گے بلکہ ماہرین کو ان کی موجودگی کا طویل عرصے سے علم ہے اور ان کے نامCeres ، Charon اور Xenaہیں۔ سیارہ کس کو کہتے ہیں؟ اگر اس سوال کا ایک نیا سائنسی جواب تلاش کرلیا گیا تو بہت سے فلکیاتی اجسام کو سیارے قرار دے دیا جائے گا مگر ان میں سے زمین کے نظام شمسی کے حصے کے طور پر سورج کے گرد چکر لگانے والے اجسام یا نئے سیاروں کی تعداد صرف تین ہو گی۔

1919میں قائم ہونے والی تنظیم بین الاقوامی فلکیاتی یونین (IAU)کے موجودہ صدر Ron Ekersکا کہنا ہے کہ اس تنظیم کی ایک تحقیقی کمیٹی نے دو سالہ محنت کے بعد اب یہ تجویز پیش کی ہے کہ 12فلکیاتی اجسام کو، جو روائتی سیارے تو نہیں ہیں مگر سیاروں جیسے ہیں،باقاعدہ سیارے قرار دے دیا جائے اور ان اجسام کو ابھی تک امیدوار سیاروں کا نام دیا جارہا ہے۔ ان میں سے چند ایک زمین سے 15بلین کلومیٹر تک کی دوری پر واقع ہیں۔

چیک جمہوریہ میں76ویں بین الاقوامی فلکیاتی کانگریس کے منتظمین کہتے ہیں کہ اگر سیاروں کی نئی سائنسی تعریف پر اتفاق ہو گیا تو دنیا بھرکی جملہ زبانوں میں چھپنے والی تمام فلکیاتی نصابی کتابوں میں ترمیم بھی لازمی ہو جائے گی۔اس کے علاوہ زمین کے نظام شمسی کے ارکان کی تعداد اگر 12ہو گئی تو سورج کے گرد گھومنے والے سیاروں کے طور پر ان اجسام کی ترتیب بھی بدل جائے گی۔مثال کے طور پر اب اگر مریخ کے بعد مشتری کا نام آتا ہے تو پھر مریخ کے بعد اور مشتری سے پہلے سےریس (Ceres)کانام آئے گا۔