1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

زمین پر 520 روزہ ’مریخ مشن‘ کا آغاز

جمعرات چار جون سے روسی دارالحکومت ماسکو میں ’مارس پانچ سو‘ نامی منصوبہ شروع ہوا ہے، جس میں آزمائشی بنیادوں پر یہ جانچا جائے گا کہ سیارے مریخ تک کے سفر میں خلا بازوں کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

default

زمین سے مریخ تک کا فاصلہ ایک نہیں ہے بلکہ بدلتا رہتا ہے۔ یہ فاصلہ 55 ملین کلومیٹر (34 ملین میل) سے لے کر 400 سو ملین کلومیٹر (250 میل) تک بنتا ہے۔ اِس بدلتے فاصلے کا انحصار اِس بات پر ہے کہ دونوں سیارے اپنے اپنے مدار میں کس جگہ موجود ہیں۔

خلائی سفر سے متعلق روسی ادارے Roskosmos اور یورپی خلائی تنظیم ESA کے اِس مشترکہ منصوبے کا چَودہ روز پر مشتمل ابتدائی آزمائشی مرحلہ سن 2007ء میں ہی انجام پا چکا ہے۔ اب چار جون سے ماسکو کی روسی اکیڈمی آف سائنسز IBMP میں چھ مرد 520 دنوں کے لئے باقی دُنیا سے مکمل طور پر کٹ کر ایک عمارت کے محض 180 مربع میٹر رقبے تک محدود ہو گئے ہیں۔ اِس تجربے میں شریک مردوں میں سے تین روسی ہیں، ایک اطالوی نژاد کولمبین ہے، ایک فرانسیسی ہے اور ایک چینی ہے۔ سرخ سیارے کی جانب یہ آزمائشی سفر نومبر سن 2011ء میں اپنے اختتام کو پہنچے گا۔

اِس تجربے سے یہ پتہ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ خلا بازوں کو مریخ تک جانے کے لئے 250 دنوں کے سفر، وہاں تیس روزہ قیام اور واپسی کے 240 روز کے سفر میں کیا حالات پیش آ سکتے ہیں۔ اِس دوران ویڈیو کیمروں کی مدد سے نہ صرف اُن کی جسمانی بلکہ نفسیاتی کیفیات پر بھی پوری طرح سے نظر رکھی جا رہی ہے۔

Mars Express Zeichnung

تجربے کے آغاز سے پہلے اِس میں شریک ستائیس سالہ چینی شہری وانگ یُوئے نے کہا:’’ہم سب کے لئے یہ وقت مشکل ثابت ہو گا۔ ہم اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں سے نہیں مل سکیں گے۔‘‘ ایک بڑے ہال میں جو 180 مربع میٹر رقبہ اِس تجربے کے لئے مختص کیا گیا ہے، اُس میں ’خلائی جہاز‘ کے ساتھ ساتھ ایک خلائی گاڑی اور مریخ کی سطح کا ماڈل بھی شامل ہیں۔

حقیقی خلائی سفر کی طرح اِس تجرباتی سفر میں بھی پانی کی بچت کی غرض سے تجربے کے شرکاء محض ہر دس روز بعد ہی نہا سکتے ہیں۔ وہ اپنے کپڑے بھی نہیں دھو سکتے۔ تجربے میں شریک فرانسیسی شہری روماں شارل نے کچھ عرصہ پہلے اِس حوالے سے بتایا تھا:’’جب ہمارے کپڑے گندے ہو جائیں گے تو ہم اُنہیں باہر خلاء میں پھینک دیں گے۔‘‘

بیرونی دُنیا کے ساتھ اِن ’خلا بازوں‘ کا واحد رابطہ ای میل کے ذریعے ہے، جو چالیس منٹ کی تاخیر سے ہی پہنچ سکتی ہے۔ اِس تجربے میں جان بوجھ کر کسی خاتون کو شریک نہیں کیا گیا تاکہ تمام کے تمام چھ مرد شرکاء کی توجہ اپنے اپنے فرائض پر مرکوز رہے۔

ESA اور IBMP نے گزشتہ برس بھی اِسی طرح کے ایک آزمائشی پروگرام کا اہتمام کیا تھا، جس کے شرکاء 105 روز تک باقی دُنیا سے کٹے رہے تھے۔ اِس تجربے میں وفاقی جرمن فوج کے ایک افسر اولیور کنکل بھی شریک ہوئے تھے۔ حقیقت میں مریخ تک کے لئے انسان بردار خلائی جہاز کا سفر اِس مشن سے جڑے بے پناہ اخراجات کے باعث سن 2030ء سے پہلے ممکن نہیں ہو سکے گا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM