1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

زمین پر چار ارب سال پہلے بھی زندگی موجود تھی، نئے ٹھوس شواہد

سائنسدانوں کے مطابق انہیں اربوں سال پہلے زمین پر زندگی کی موجودگی سے متعلق نئے براہ راست اور ٹھوس شواہد مل گئے ہیں۔ یہ ثبوت کینیڈا میں خلیج ہڈسن کے علاقے سے سمندر کی تہہ میں انتہائی قدیم حیاتیاتی باقیات سے ملے ہیں۔

امریکا میں واشنگٹن اور کینیڈا میں ٹورانٹو سے جمعرات دو مارچ کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ انکشاف سائنسی تحقیقی جریدے ’نیچر‘ کے ایک تازہ شمارے میں چھپنے والے تازہ ترین ریسرچ کے نتائج کے ذریعے کیا گیا ہے۔

ساڑھے بارہ کروڑ سال پرانے فوصل شدہ انڈوں میں چھپکلی کے جنین

نیوزی لینڈ میں بہت بڑے پینگوئن کے فوسلز کی دریافت

پرندے کی شکل کا ڈائینو سارس، 16کروڑ سال پرانا فوسل دریافت

سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والے ان تحقیقی نتائج کے مطابق ماہرین کو کینیڈا میں خلیج ہڈسن کے علاقے میں ایک سمندری معدنی چٹان سے ایسی مائیکروسکوپک ٹیوبیں اور حیاتیاتی اجزاء کی باقیات ملی ہیں، جو اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ زمین پر کم از کم بھی قریب تین ارب 77 کروڑ برس قبل بھی زندگی موجود تھی۔

اس جریدے کے مطابق یہ مائیکروفوسلز دراصل بیکٹیریا کی طرح کے یک خلیاتی مائیکروبز کی ایسی انتہائی قدیم باقیات ہیں، جو اربوں سال گزر جانے کے نتیجے میں اب تک معدنی شکل اختیار کر چکی ہیں اور اب نامیاتی چٹانی شکل میں سمندر کی تہہ میں پائی جاتی ہیں۔

ڈی پی اے کے مطابق سائنسدانوں کو اس سے قبل کبھی ایسے کوئی اربوں سال پرانے ٹھوس شواہد نہیں ملے تھے کہ اپنی قدیم سے قدیم ترین حالت میں بھی زمین پر زندگی کس وقت موجود تھی۔ ’نیچر‘ میں چھپنے والی تفصیلات کے مطابق یہ 3.77 بلین سال پرانے مائیکروفوسلز ایسے بیکٹریا کی وجہ سے بنے، جو سمندر کی تہہ میں ہائیڈرو تھرمل خطوں میں لوہے کے مختلف ایٹموں پر گزارہ کرتے ہوئے زندہ رہتے تھے۔

TRAPPIST-1 Habitable Zone (NASA/JPL-Caltech)

اربوں سال پہلے زمین پر زندگی کی موجودگی سے متعلق نئے براہ راست اور ٹھوس شواہد مل گئے ہیں

ان مائیکروفوسلز کی موٹائی ایک عام انسانی بال کی موٹائی سی بھی کم بنتی ہے اور محققین کے بقول یہ 3.77 بلین سال سے لے کر 4.3 بلین سال تک پرانے ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل زمین پر انسانی زندگی کے قدیم ترین شواہد کے طور پر جو مائیکروفوسلز ملے تھے، وہ زیادہ سے زیادہ بھی 3.46 بلین سال پرانے تھے۔

اس تحقیقی منصوبے کے سربراہ اور یونیورسٹی کالج لندن کے ایک ماہر حیاتیات میتھیو ڈوڈ کا کہنا ہے، ’’اس نئی دریافت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب ہم یہ جانتے ہیں کہ زمین پر اس دور میں زندگی کی ابتداء کیسے ہوئی، جب زمین ابھی اپنے ارتقاء کے ابتدائی مراحل سے گزر رہی تھی۔‘‘

میتھیو ڈوڈ نے اس نئی ریسرچ کے حوالے سے یہ سوال بھی کیا، ’’اب ماہرین کو اس پہلو سے بھی تحقیق کرنا ہو گی کہ اگر زمین پر زندگی کی ابتداء اتنی جلد ہو گئی تھی تو کیا ایسا زمین کے علاوہ دیگر سیاروں پر بھی ہوا ہو گا یا اس عمل کے لیے زمین محض ایک استثنائی سیارہ ثابت ہوئی تھی؟‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات