1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زمینی درجہء حرارت میں اضافے کے خلاف بُش کی نئی تجاویز

آب و ہوا سے متعلق امریکی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید کے پیشِ نظر امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش نے زمینی درجہءحرارت میں اضافے کے خلاف ایک نیا عالمگیر لائحہءعمل تجویز کیا ہے۔ جہاں یورپی یونین میں شامل ممالک نے اِس امریکی تجویز پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے، وہاں جاپان، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے بُش کی تجیوز کا خیر مقدم کیا ہے۔

صدر بُش اپنی تجویز 31 جولائی کو واشنگٹن میں رونالڈ ریگن بلڈنگ میں ایک تقریر کے دوران پیش کر رہے ہیں۔

صدر بُش اپنی تجویز 31 جولائی کو واشنگٹن میں رونالڈ ریگن بلڈنگ میں ایک تقریر کے دوران پیش کر رہے ہیں۔

ایک ہفتے بعد جرمنی میں مجوزہ جی ایٹ سربراہ کانفرنس کی روشنی میں بُش نے کہا ہے کہ دُنیا کے پندرہ اہم ترین صنعتی ممالک اور ترقی کی دہلیز پر کھڑے ممالک کو سن 2008ء کے اواخر تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کے عالمگیر اہداف پر اتفاقِ رائے کر لینا چاہیے۔

بُش نے کہا کہ کیوٹو معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد جو بھی اہداف مقرر ہوں، اُس میں تمام اہم ممالک کی مرضی شامل ہو۔ اُن کا اشارہ چین اور بھارت کی طرف تھا، جنہوں نے امریکہ ہی کی طرح کیوٹو پروٹوکول پر دستخط نہیں کئے۔