1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زمبابوے پرجنوبی افریقی ترقیاتی برادری کا ہنگامی اجلاس

جنوبی افریقہ کے صدر تھابو ایم بیکی جنوبی افریقی ترقیاتی برادری کے اہم اجلاس میں تو شرکت نہیں کر رہے ہیں تاہم انہوں نے واشگاف انداز میں کہا ہے کہ زمبابوے کی بحرانی صورتحال میں بہتری کے لئے فوجی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔

default

جنوبی افریقہ کے صدر تھابو ایم بیکی کو صدر موگابے کی طرف داری پر تنققید کا نشانہ بنایا جاتا ہے

swaziland میں زمبابوے کے سیاسی بحران پر قابو پانے کے لئے ہونے والی ہنگامی میٹنگ میں تنزانیہ اور زمبیا کے صدور تو شرکت کر رہے ہیں لیکن جنوبی افریقہ کے صدراورخطے میں قیام امن کے لئے خصوصی مذاکرت کار تھابو ایم بیکی کی اس میٹنگ میں عدم موجودگی نےکئی سوالیہ نشانات کو جنم دے دیا ہے، دسری طرف مورگن چنگیرائی ہرارے میں واقع ہالینڈ کے سفارت خانے میں تین دن تک پناہ لینے کے بعد آج اپنے گھر واپس آ گئے ہیں۔

اگرچہ جنوبی افریقہ کے صدر تھابو ایم بیکی جنوبی افریقی ترقیاتی برادری کے اہم اجلاس میں تو شرکت نہیں کر رہے ہیں تاہم انہوں نے واشگاف انداز میں کہا ہے کہ زمبابوے کی موجودہ بحرانی صورتحال میں بہتری کے لئے فوجی مداخلت کی ہر گز ضرورت نہیں ہے۔

Simbabwe Morgan Tsvangirai in Harare

مورگن چنگیرائی تین دن ہرارے میں واقع ہالینڈ کے سفارت خانے میں پناہ لینے کے بعد گھرروانہ

مومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج ایم ڈی سی کے چھپن سالہ رہنما چنگیرائی نے اپنے دفتر میں پولیس چھاپے کے بعد ہرارے میں واقع ہالینڈ کے سفارت خانے میں پناہ لی تھی تاہم انہوں نے اپنے گھر واپس جا کر ایک پریس کانفرنس میں صدر موگابے کی طرف سے کی جانے والی مذاکرت کی دعوت کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ جب تک ان کی پارٹی کے نائب ٹنڈائی بیٹی اور ان کی پارٹی کے تقریبا دو ہزار ا سیاسی اراکین کو رہا نہیں کیا جاتا کسی بھی قسم کے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے افریقی یونین اور SADC سے اپیل کی کے ملک میں بحران کے خاتمے کے لئے عملی کوششیں کی جائیں۔ چنگیرائی نے کہا کہ فی الحال ملک کو بچانے کے لئے سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے۔

افریقی رہنماؤں کی اس اہم ملاقات میں زمبابوے میں سیاسی بحران کے خاتمے کے مذاکرات کاروں پر امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے دباؤ میں بھی نمایاں فرق نظر آ رہا ہے ۔

چیونگرائی نے اتوار کے دن صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے دستبردار ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا انتخابات میں حصہ لینا ان کے حامیوں کے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ جمعہ کے دن انتخابات ہونا طے ہیں اور اس سے پہلے ہی ملک میں تشدد آمیز واقعات میں ریکارڈ اضافہ دکھنے میں آیا ہے۔

زمبابوے کے صدر موگابے نے ان فسادات اور پر تشدد واقعات کے لئے چنگیرائی کو مورد الزام ٹھراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ موگابے کی زانو پی ایف پارٹی انتخابات میں دھاندلی کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم موگابےاپنے عزم پر براقرار ہیں کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ضرور ہوں گے، چاہے اس میں کوئی حصہ لے یا نہیں۔

Protest in London gegen die Regierung in Simbabwe

زمبابوے کے شہری موگابے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے

عالمی مبصرین اور سیاستدانوں کا کہنا ہے چنگیرائی کے دستبردار ہونے کے بعد انتخابات ملتوی کر دینے چاہیے ورنہ بعد میں زمبابوے کی سیاسی صرتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔

ایم ڈی سی نے لندن کے ایک اخبار دی گارڈین میں چھپنے والے اس کھلے خط کی تردید کر دی ہے جس میں چنگیرائی کے نام سے شائع کیا گیا تھا کہ تھابو ایم بیکی خطے میں قیام امن کی کوششوں میں ناکام ہو گئے ہیں۔ اور اب بین الاقوامی امن فوجی دستے زمبابوے میں بھیجے جائیں۔