1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زمبابوے: رابرٹ مگابے نے پارلیمانی اجلاس طلب کر لیا

منگل کے روز زمبابوے کے صدر مخالفت کے با وجود زمبابوے کی پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حزبِ اختلاف کا موقف ہے کہ اس سے حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان مذاکرات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

default

زمبابوے کے مستقبل کا انحصار جنوبی افریقہ میں جاری حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان مذاکرات کی کامیابی پر ہے

رابرٹ مگابے کی زانو پی ایف حکومت کا کہنا ہے کہ پیر کے روز سے زمبابوے کی نئی پارلیمان کا اجلاس شروع ہو جائے گا۔ زمبابوے میں ایک جانب سیاسی بے یقینی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے تو دوسری طرف ملکی معیشت اس حد تک تباہ ہوچکی ہے کہ اگر جلد ہی کچھ نہ کیا گیا تو عین ممکن ہے کہ دوبارہ کچھ نہ کیا جا سکے۔


مبصرین کی رائے میں پارلیمان کا اجلاس طلب کرنا غالباً رابرٹ مگابے کی جانب سے مذاکرات میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ وہ شراکت اقتدار پر تیّار تو دکھائی دیتے ہیں مگر قومی حکومت میں وہ اپنا اور اپنی جماعت کا زیادہ سے زیادہ حصّہ چاہتے ہیں۔ دوسری جانب مارگن چوانگرائی کی تحریک برائے جمہوری تبدیلی کا موقف ہے کہ پارلیمان کا اجلاس اگر شروع ہوگیا تو مذاکرات کے لیے پیشگی شرائط غیر موثر ہو کر رہ جائیں گی۔


رواں برس مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے لیے کر اب تک زمبابوے سیاسی بحران کا شکار ہے جس میں سینکڑوں افراد پرتشدّد واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ صدارتی انتخابات کا ایک اور دور جون میں منعقد کیا گیا مگر مارگن چوانگرائی نے اس کابائکاٹ کیا۔ رابرٹ مگابے اس وقت سرکاری طور پر زمبابوے کے صدر تو ہیں مگر بدحال معیشت اس حد تک بد حال ہو چکی ہے کہ وہ مغربی ممالک کی جانب سے مزید اقتصادی پابندیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے۔ مارگن چوانگرائی کو مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے اور شاید وہ ہی زمبابوے کی معیشت کو سہارا دے سکیں۔


اس حوالے سے جنوبی افریقہ کے صدر تھابو ایم بیکی کی ثالثی میں زانو پی ایف اور ایم ڈی سی کے درمیان مذاکرات بے انتہا اہمیت کے حامل ہیں۔ کئی ادوار کے بعد بھی اب تک مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ اب رابرٹ مگابے کی جانب سے پارلیمانی اجلاس طلب کرنے کو حزبِ اختلاف یہی سمجھنے پر مجبور ہے کہ مگابے اس کے بغیر بھی کاروبارِ حکومت چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔