1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زلیتن میں قذافی کی حامی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے 160 کلومیٹر دور زليتن میں قذافی کی حامی افواج اور مسلح باغیوں کے درمیان شدید لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ترکی نے قذافی کو لیبیا چھوڑنے کے عوض ’’ضمانتوں‘‘ کی پیشکش کی ہے۔

default

مصراتہ ضلع میں واقع زليتن کے علاقے پر سرکاری فوجیں بھاری توپ خانے کا استعمال بھی کر رہی ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں میں اب تک 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق قذافی کی حامی افواج نے پہلی مرتبہ عالمی ورثے میں شامل غدامس کے علاقے پر بھی شیلنگ کی ہے۔ غدامس، تیونس اور الجزائر کی سرحد کے قریب واقع شہر ہے اور یہاں قذافی مخالف تحریک اور حکومتی فورسز کے کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے اس طرز کی یہ پہلی کارروائی ہے۔

عالمی طاقتیں اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح لیبیا میں جاری اس خانہ جنگی کے خاتمے کی کوششوں میں حائل ڈیڈ لاک کو ختم کیا جا سکے۔ اب تک روس ثالثی کی کوششوں میں آگے تھا تاہم جمعہ کو ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے معمر قذافی کو لیبیا چھوڑ دینے کے عوض ’ضمانت‘ کی پیشکش کی ہے، تاہم انہیں اس پیشکش کا ابھی تک جواب نہیں ملا ہے۔

ترک وزیراعظم نے قذافی کو بعض ’ضمانتوں‘ کی پیشکش کی ہے

باغیوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ ڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ قذافی کی حامی افواج کے خلاف نئے محاذ کھولے جائیں گے۔ باغیوں کے عسکری ترجمان احمد بنی کے مطابق جمعہ کے روز زلیتن شہر میں حکومتی فورسز نے 22 باغیوں کو ہلاک کیا۔

باغیوں کے زیرقبضہ مصراتہ میں صرف تین ہی علاقے حکومتی کنٹرول میں ہیں، جن میں سے ایک زلیتن ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ زلیتن میں حکومتی فورسز کو شکست ہوئی تو اس کا واضح اثر قذافی کے مضبوط ترین گڑھ طرابلس میں حکومت مخالف تحریک میں شدت کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔

احمد بنی کے مطابق زلیتن کو حکومتی فوج نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور وہاں شہریوں کو ہراساں کرنے کے لیے یہ اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ اگر وہ ہتھیار نہیں پھینکیں گے، تو فوج ان کی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائی گی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM