1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زلزلے سے امریکی جوہری تنصیبات کو لاحق خطرات

منگل کو امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں میں 67 سال بعد آنے والے ایک طاقتور زلزلے سے ملک کے جوہری بجلی گھروں کے تحفظ کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

default

ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.8 تھی اور اس کا مرکز دو ری ایکٹروں پر مشتمل نارتھ عینا جوہری بجلی گھر سے محض چند میل دور تھا۔ واشنگٹن سے 80 میل جنوب مغرب میں ریاست ورجینیا کے قصبے منرل میں واقع یہ بجلی گھر ڈومینین ریسورسز نامی کمپنی چلا رہی ہے۔

زلزلے کے نتیجے میں بجلی گھر میں بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی اور اس نے خود بخود کام کرنا چھوڑ دیا۔ ڈومینین ریسورسز کمپنی کے ایک ترجمان کے بقول زلزلے سے بجلی گھر کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا مگر ری ایکٹر میں موجود تابکار مواد کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے چلائے گئے چار جنریٹروں میں سے ایک نہیں چل سکا۔

USA Atomkraft Atomkraftwerk Three Mile Island GAU Jahrestag in Harrisburg

1979 میں پنسلوانیا کے تھری مائل آئی لینڈ میں امریکہ کی تاریخ کا بدترین جوہری حادثہ ہوا تھا

اگرچہ جوہری بجلی گھر جنریٹروں کے ذریعے پیدا ہونے والی بجلی کے ذ‌ریعے بحفاظت چل سکتے ہیں مگر مارچ میں آنے والے انتہائی زوردار زلزلے اور سونامی کے بعد جاپان کے فوکوشیما ڈائچی بجلی گھر کے حادثے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس کے جنریٹروں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

جوہری توانائی کے خلاف لابی گروپ 'بیونڈ نیوکلیئر' کے عہدیدار پال گنٹر نے کہا، ’’ہنگامی حالات میں بجلی کے متبادل نظام پر چلنے والے جوہری بجلی گھروں میں تحفظ کا پہلو متاثر ہو سکتا ہے۔‘‘

امریکہ کے نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن نے کہا کہ نارتھ عینا کا بجلی گھر محفوظ ہے اور اس سے عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ بجلی گھر میں دوبارہ کام کب شروع کیا جائے گا۔

ڈومینین کمپنی کے ترجمان جم ناروِل نے کہا کہ بجلی گھر کا ڈیزائن اس طرح کا ہے کہ وہ 6.2 شدت کے زلزلے کے جھٹکے برداشت کر سکتا ہے۔ تاہم تشویش میں مبتلا ایک سائنس دان ایڈوِن لی مین نے کہا، ’’اگر فوکوشیما کے حادثے میں بھی سبق نہیں سیکھا گیا تو یہ زلزلہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ملک کے ان تمام علاقوں میں زلزلہ شناسی کا جائزہ لیا جائے جہاں جوہری بجلی گھر واقع ہیں۔‘‘

Japan Löscharbeiten am Atomkraftwerk Fukushima

مارچ میں جاپان کے فوکوشیما ڈائچی بجلی گھر کے حادثے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس کے جنریٹروں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا

اس سے پہلے مشرقی ساحلی علاقوں میں 1944 میں اس شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ نارتھ عینا کے ری ایکٹر ان 27 بجلی گھروں میں شامل ہیں، جنہیں ریگولیٹری کمیشن نے 2007 کے اپنے زلزلہ شناسی کے جائزے میں ممکنہ خطرہ قرار دیا تھا۔

بیشتر جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے جوہری بجلی گھروں کے تعمیراتی ڈیزائنوں میں نقص ہے اور وہ زلزلے کو نہیں سہار سکتے۔ گزشتہ سال نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن کے سروے سے پتا چلا کہ زلزلوں کے خطرات اس سے کہیں زیادہ ہیں، جن کے بارے میں پہلے تصور کیا جا رہا تھا۔

1979 میں پنسلوانیا کے تھری مائل آئی لینڈ میں ہونے والے جوہری حادثے کے وقت کمیشن میں کام کرنے والے وکٹر گیلنسکی نے کہا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ زلزلوں کا خطرہ بڑھنے کے باوجود نارتھ عینا جیسے جوہری بجلی گھروں میں تحفظ کے اقدامات پر نظر ثانی نہیں کی جا رہی۔

تاہم ماساچوسیٹ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں انجنینئرنگ کے پروفیسر رونلڈ بالنگر نے کہا کہ اس طرح کے زلزلوں سے امریکی جوہری بجلی گھروں کو زیادہ خطرہ نہیں ہے۔ منگل کے زلزلے سے دیگر بجلی گھروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ڈومینین ان 11 امریکی کمپنیوں میں سے ایک ہے جنہوں نے اعلٰی درجے کے جوہری بجلی گھر تعمیر کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

 رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امتیاز احمد 

DW.COM