زلزلہ متاثرین کی کسمپرسی، تیسری رات بھی گزر گئی | حالات حاضرہ | DW | 29.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زلزلہ متاثرین کی کسمپرسی، تیسری رات بھی گزر گئی

پاکستان اور افغانستان میں پیر کے روز آنے والے زلزلے کے متاثرین میں امداد میں تاخیر پر مایوسی و بے چینی بڑھنے لگی ہے۔ ان افراد نے سرد موسم میں کھلے آسمان تلے اپنی تیسری رات بھی گزار دی ۔

متاثرین نے حکام اور امدادی اداروں اور رضا کاروں سے اپیل کی ہے کہ زلزلے کے متاثرین کو کمبل اور گرم کپڑے مہیا کرنے میں دیر نہ کریں بصورت دیگر شدید ہوتا موسم ان کے لیے اور اُن کے بچوں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ پیر کے روز افغانستان اور پاکستان میں آنے والے زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چارسو کے قریب ہو چُکی ہے۔ ہلاکتوں کے علاوہ ہزاروں افراد بغیر کسی مناسب انتظام کے سخت سردی میں کھلے آسمان تلے گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ زلزلے سے متاثرہ کئی علاقے دور افتادہ ہیں اور وہاں تک پہنچنا دشوار ہے اور وہاں امداد کی ترسیل آسانی سے ممکن نہیں ہے۔ اِسی تناظر میں پاکستانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں کے بعض مقامات پر برفباری کا آغاز ہو گیا ہے اور خراب موسم بھی امدادی عمل میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کے مختلف یونٹس امدادی عمل کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبرپختونخوا کے ایک اہلکار محمد بہادر کا کہنا ہے کہ زلزلے کے فوری بعد جو کچھ گودام میں رکھا گیا تھا، وہ سب بانٹا جا چکا ہے اور مزید کی درخواست کی جا چکی ہے۔ بہادر کے مطابق رواں برس جولائی میں آنے والے سیلاب کے دوران بھی امدادی سامان تقسیم کیا گیا تھا اور اِس باعث زلزلے کے وقت گودام میں ہنگامی امدادی سامان میں کمی واقع ہو چکی تھی۔ محمد بہادر خیبرپختونخوا کے علاقے چترال کے ایک گاؤں دروش میں متعین ہے۔

Pakistan Erdbeben Hilfsaktion in Peschawar

پاکستانی فوج کے مختلف یونٹس امدادی عمل کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں

ایسے ہی دوسرے افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں سے بھی امدادی سامان فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ حکومتی سطح پر کئی غیرسرکاری تنظیمیں متاثرین تک امدادی سامان کی ترسیل کی فراہمی کے لیے متحرک بھی ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں اب تک گیارہ ہزار مکانات کی تباہی کا اندازہ لگایا جا چکا ہے۔ اِن گھروں کے ہزاروں مکین بےسروسامانی کی حالت میں ہیں۔ ان میں بچے بھی شامل ہیں۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ امداد کی فراہمی میں تاخیر سے سخت موسم کے باعث متاثرین کو جان لیوا بیماریوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

بظاہر پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے ملک میں آنے والے حالیہ زلزلے کے متاثرین کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے لیکن مقامی ذرائع ابلاغ پر زلزلے سے متاثرہ علاقوں سے آنے والی رپورٹوں کے مطابق بہت سی جگہوں پر اب بھی امداد نہیں پہنچائی جاسکی اور لوگ سخت سردی میں کھلے آسمان تلے بسر کر رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں زلزلے کے آفٹر شاکس کی وجہ سے لوگوں میں اب بھی شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے۔

اُدھر مغربی امدادی ایجنسیوں نے طالبان عسکریت پسندوں کی موجودگی کو امدادی عمل میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ افغانستان میں 76 سو مکانات کی تباہی کا بتایا گیا ہے۔ دوسری جانب طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں اپنی عسکری کارروائیوں کو معطل کر رہے ہیں۔