1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زلزلہ متاثرین اور عینی شاہدین

بدھ کے روز بلوچستان کے مختلف اضلاع میں آنے والے زلزلے کے بعد صوبے کے متاثرہ علاقوں میں غم اور سوگ کی کیفیت طاری ہے۔ ایک طرف امدادی کاروائیاں کی جا ری ہیں تو دوسری طرف مرنے والوں کی تدفین بھی جاری ہے۔

default

ایک زخمی بچےکو اہل خانہ ہسپتال لا رہتے ہیں

اس زلزلے نے لوگوں میں خوف وہراس پیدا کر دیا ہے۔ لوگ گھروں میں رہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ شدید سردی، راستوں کی بندش اور نا کافی امدادی کاروائیوں کی وجہ سے زلزلے کے متاثرین کی مشکلات کافی بڑھ گئی ہیں۔ امدادی کاروائیوں میں عسکری اور مذہبی تنظیموں کے کارکن بھی شریک ہیں جبکہ فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

کوئٹہ میں ملازمت کرنے والے ایک شہری زاہد حسین نے ٹیلےفون پر ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ زیارت اور اس کے قریبی علاقوں میں بڑی تعداد میں مکانات منہدم ہو چکے ہیں ۔ نعشیں ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں اور ہر طرف تباہی نظرآرہی ہے۔ امدادی سر گرمیوں میں شرکت کے لئے زیارت جانے والے جماعت الدعوہ کے ایک بابر نامی کارکن نے بتایا کہ زیارت کی طرف جاتے ہوئے راستے میں جگہ جگہ تباہی کے آثار نظرآ رہے ہیں۔ لوگ خوف زدہ ہیں،کوئی مکان، کوئی عمارت سلامت نہیں رہی، سہمے ہوئے لوگ اپنے گھروں میںجانے سے گریزکررہے ہیں۔ اگرچہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچنا شروع ہوگیا ہے لیکن پھر بھی ابھی بہت معمولی تعداد میں کچھ لوگوں کو خیمے میسر آئے ہیں جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد شدید سردی کے موسم میں کھلے آسمان کے نیچے موجود ہے۔

کوئٹہ میں ایدھی فائونڈیشن کے امدادی مرکز کے انچارج جاوید نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ آفت زدہ علاقوںسےآنے والےان کےکارکنوں نے انہیں بتایا ہے کہ زیارت اوراس کے گرد و نواح میں ہونے والی تباہی ایک بڑا انسانی المیہ محسوس ہو رہی ہے۔ اس موقع پر ڈوئچے ویلے سے گفتگو کے دوران اچانک شور کی آواز سنائی دی اور جاوید سے گفتگو کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ دوبارہ رابطہ کرنے پر جاوید نے بتایا کہ ایک طاقتورآفٹرشاک کی وجہ سے ہم لوگ عمارت سے باہربھاگ گئےتھے۔ ان کے مطابق بدھ کے روز سارا دن آفٹر شاکس کی وجہ سے زلزلے آتے رہے جس سے لوگوں کے خوف وہراس میں اضافہ ہو گیا۔ کوئٹہ کے بولان ہسپتال کی عمارت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور آفٹرشاکس کے دوران کئی مرتبہ مریض اور ان کے لواحقین اورطبی عملے کو بھاگ کر جان بچانے کے لئے ہسپتال سے باہر جانا پڑا ۔ جمعیت علما ء پاکستان کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ زلزلے کے دوران لوگوں نے جانیں بچانے کے لئے پلازوں کی عمارتوں سے چھلانگیں لگائیں جس کے نتیچے میں کئی لوگ زخمی ہو گئے ان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں پہاڑوں کے اوپرکچےمکانوں میں رہنےوالوں کوبہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان کے مطابق سخت سردی میں خیمے اور کمبل کے بغیر کھلے آسمان کے نیچے رات بسر کرنے والے بچے بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔