1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’زلزلہ جس کے زخم دس برس بعد بھی بھر نہ سکے‘

دس برس قبل پاکستان کے شمالی حصوں میں آنے والے زلزلے نے تباہی مچا دی تھی۔ 7.6 کی شدت کے اس زلزلے کے نتیجے میں 73 ہزار افراد ہلاک جب کہ سوا لاکھ سے زائد زخمی اور ساڑھے تین ملین بے گھر ہوئے۔

صبح کا وقت تھا اور نازش ناز اس بات پر اپنے گھر والوں سے جھگڑ رہی تھی کہ وہ اسکول نہیں جانا چاہتی اور وجہ وہ یہ بتا رہی تھی کہ آج کا دن بہت برا ہے۔ اس 16 سالہ بچی کے گھر سے اسکول کے لیے نکلنے کے 30 منٹ سے بھی کم وقت میں اس قدرتی آفت نے علاقے کو آن لیا اور نازش ناز پھر کبھی گھر نہیں لوٹی۔

اس تباہ کن زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہریوں میں سے ایک مظفرآباد بھی تھا، تاہم دس برس گزر جانے کے باوجود یہاں تباہی کے نشانات بہت واضح ہیں۔

ناز کے اہل خانہ آج تک اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ یہ بچی انتقال کر گئی۔ انہیں نازش ناز کی ہلاکت کی اطلاع بھی اس طرح ملی تھی کہ ایک اخبار میں ہسپتال میں زخمی حالت میں داخل افراد میں اس بچی کی تصویر بھی چھپی تھی، تاہم اس بچی کا کہیں کوئی نام و نشان نہ ملا۔

یہ معاملہ صرف نازش ناز کے اہل خانہ کا نہیں بلکہ سینکڑوں دیگر ایسے ہی خاندانوں کا بھی ہے، جنہوں نے اپنے پیارے اس قدرتی آفت میں کھو دیے اور انہیں آج تک معلوم نہیں کہ آیا وہ زندہ ہیں یا نہیں۔

حکومت کی جانب سے تعمیر نو کے بے شمار دعووں کے باوجود آج بھی ایک دہائی قبل آنے والے اس زلزلے کی تباہی کے نقوش یوں ہیں جیسے ابھی کل کی بات ہو۔ متاثرین کے لیے نئے مکانات کی تعمیر کے وعدے بس زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہے اور یہ افراد حکومتی امداد کی امیدیں لگائے دن پر دن گنتے رہے۔

Pakistan Erdbeben in Awaran 25. September

اس واقعے میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

آدھ بنی سڑکیں، یہاں وہاں بکھرا تعمیراتی سامان اور نئے قصبے بسانے کی لیے خالی کیے جانے والے علاقے دکھائی دیتے ہیں، جو لگتا ہے کہ کبھی مکمل نہیں ہو سکیں گے۔

نازش ناز کے اہل خانہ آٹھ اکتوبر 2005ء کے اس سانحے میں ہلاک ہونے والی اپنی بچی کی دسویں برسی منا رہے ہیں۔ ناز کی تلاش کے لیے انہوں نے علاقے بھر کے ہسپتال، اسکول، ریلوے اسٹیشن اوربس اسٹاپ تک کے چکت کاٹے، مگر اس کا کوئی نشان نہ ملا۔ وہ اب بھی مقامی اخبار کی اس تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سر پر زخم کی حامل ان کی بچی اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں تھی۔ اہل خانہ کے پاس کہنے کو بس ایک ہی جملہ ہے، ’تصویر میں وہ زخم ایسے شدید بھی نہیں تھے کہ کوئی مر جاتا۔‘

ایک سرکاری محکمے میں بطور ڈرائیور ملازمت کرنے والے نازش ناز کے والد کا کہنا ہے، ’میری بیٹی بہت ذہین تھی۔ اسے ہم سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔ وہ کہیں بھی ہوتی، ہم سے رابطہ ضرور کرتی۔ ہمیں یہی لگتا ہے کہ شاید اس سانحے میں وہ اپنی یادداشت کھو بیٹھی ہو گی، کیوں کہ تصویر میں اس کے سر پر زخم تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’ہماری بیٹی کے زندہ ہونے کا ہمیں نہیں معلوم مگر اس کی موت کا بھی تو کوئی ثبوت نہیں۔ ہم قبر دیکھے بغیر یہ کیسے مان لیں کہ نازش مر چکی ہے۔‘

بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کے مطابق اس زلزلے کے بعد 576 افراد کی گمشدگی رجسٹرڈ کرائی گئی تھی، تاہم حکام ان افراد کا ریکارڈ رکھنے میں ناکام رہے اور اب تک ان افراد کے اہل خانہ کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آیا ان کے پیارے زندہ ہیں یا یہ تباہی ان نگل چکی۔