1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زلزلہ ء ہیٹی، ایک لاکھ سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ

ہیٹی میں زلزلےکو چوبیس گھنٹوں سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔ امدادی کام جاری ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

default

کئی ممالک کی جانب سے مالی امداد کے اعلانات سامنے آچکے ہیں اور امدادی ٹیمیں بھی روانہ ہو چکی ہیں۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق بحالی کے کاموں میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ دارالحکومت پورٹ آف پرانس اور اس کے ارد گرد کا علاقہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے۔

پورٹ او پرانس سمیت متاثرہ علاقوں میں افراتفری کا عالم ہے جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں بھی رکاوٹ آ رہی ہے۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکال رہے ہیں۔

Haiti / Erdbeben / Port-au-Prince

بے گھر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں بتائی جارہی ہے

اقوام متحدہ نے ہیٹی میں اپنے 14 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ نیویارک سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ مرنے والوں میں سے دس کا تعلق برازیل سے، تین کا اردن سے جبکہ ایک ہیٹی کا مقامی باشندہ تھا۔ اقوام متحدہ کے پچاس سے زائد اہلکار زخمی ہیں اور تقریباً 150 ابھی تک لاپتہ ہیں۔ اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ وہ لاپتہ افراد کے بارے میں کسی اطلاع کا بہت بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا : ''اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت انسانیت کے حوالے سے ہنگامی حالت کا سامنا ہے اور انتہائی بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں کی ضرورت ہے''۔

Flash-Galerie Erdbeben in Haiti

پورٹ آف پرانس کا ایک منظر

عالمی بینک نے زلزلہ متاثرین کے لئےسو ملین ڈالر دینےکا اعلان کیا ہے۔ عالمی بینک کے سربراہ روبرٹ زولک نے کہا کہ ادارہ اس ضمن میں ہر ممکن اقدام اٹھائے گا جبکہ ہیٹی میں عالمی بینک کی جانب سے شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔

امریکہ کی جانب سے بھی امداد روانہ ہو چکی ہے جبکہ جرمنی نے ایک اعشاریہ پانچ ملین یورو امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے کہا کہ ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جو ہیٹی میں جرمن سفارت خانے کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ ان کا کہنا ہے: ''یہ امداد اس قیامت خیز صورتحال سے نمنٹنے کے لئےکافی نہیں ہو گی تاہم یہ ہنگامی صورتحال کوکچھ کم کرنے میں مدد ضرور دے گی''۔

جرمن امداد میں سے پانچ لاکھ یورو ادویات اور اشیائے خوردو نوش کے لئے مختص ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ہیٹی کی بحرانی صورتحال کی وجہ سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت ایشیائی ممالک کا اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

رپورٹوں میں بتایا جا رہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام درھم برھم ہونے اور بجلی کی فراہمی منقطع ہونےکی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ پورٹ او پرانس کا ہوائی اڈہ بری طرح متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے سامان ڈومینک ریپبلک کے راستے پہنچایا جا رہا ہے جبکہ ریڈ کراس نے امداد کے لئے پاناما کا راستہ منتخب کیا ہے۔ امدادی سامان کی پہلی کھیپ ہیٹی پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM