1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زر مبادلہ کے چینی ذخائر تین ٹریلین ڈالر سے بھی متجاوز

بیجنگ میں چینی مرکزی بینک کے مطابق عوامی جمہوریہء چین کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی مجموعی مالیت اس سال مارچ کے آخر تک تین ٹریلین امریکی ڈالر کی حد پار کر چکے تھے۔

default

پیپلز بینک آف چائنہ کہلانے والے چین کے مرکزی بینک نے بتایا ہے کہ اس سال 31 مارچ تک غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کی مالیت مزید اضافے کے ساتھ قریب 3.045 ٹریلین ہو چکی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

عوامی چین کے اس ریاستی مالیاتی ادارے کے مطابق بیجنگ کے پاس غیر ملکی کرنسیوں میں موجود مالی ذخائر کا مجموعہ پہلے ہی دنیا بھر کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس میں اس سال کی پہلی سہ ماہی کے آخر تک، اس سے بھی ایک سال پہلے کے مقابلے میں 24.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔

دسمبر سن 2010 میں اس بینک نے اپنے پاس موجود غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کے بارے میں جو اعداد و شمار جاری کیے تھے، ان کے مطابق چین کے پاس گزشتہ برس کے آخر تک غیر ملکی کرنسیوں کے اس ذخیرے کی کل مالیت 2.87 ٹریلین ڈالر کے قریب بنتی تھی۔

NO FLASH Symbolbild China Chinesische Währung Renminbi Yuan

بیجنگ پر یوآن کی قدر و قیمت دانستہ کم رکھنے کا الزام لگایا جاتا ہے

چین کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں پچھلے چند برسوں کے دوران بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں سے بہت زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور چین کا دوسرے ملکوں کے ساتھ تجارت میں وہ مالیاتی توازن خاص طور پر قابل ذکر ہیں، جو غیر معمولی حد تک چین کے حق میں جاتا ہے۔

ماہرین کے بقول فارن کرنسی کے چینی ذخائر میں اس متاثر کن اضافے کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ چین میں ’گرم سرمایہ‘ کہلانے والے مالی وسائل کی آمد کا تناسب بھی بہت زیادہ رہتا ہے۔ ’گرم سرمائے‘ سے مراد غیر ملکی کرنسیوں میں ادا کی جانے والی وہ رقوم ہیں، جو سٹاک مارکیٹ میں سٹے بازی کے ذریعے تیز رفتار منافع کمانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کار مختصر مدت کے لیے چین منتقل کرتے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے پاس کھربوں مالیت کے فارن کرنسی ذخائر کی موجودگی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ بیجنگ حکومت ملکی کرنسی یوآن کی شرحء تبادلہ پر اثر انداز ہونے اور اہم بین الاقوامی کرنسیوں کے مقابلے میں یہ قدر کم رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مقدار میں امریکی ڈالر اور دوسری غیر ملکی کرنسیاں خریدتی رہتی ہے۔

اسی لیے امریکہ سمیت اکثر غیر ملکی حکومتوں کا بیجنگ سے بار بار یہی مطالبہ رہتا ہے کہ وہ یوآن کی قدر و قیمت اور شرحء تبادلہ پر اپنا کنٹرول کم کرے۔

چین کے بڑے تجارتی ساتھی ملکوں کو شکایت ہے کہ بیجنگ کی طرف سے یوآن کی شرحء تبادلہ اس کی اصل قدر سے دانستہ طور پر کم رکھی جاتی ہے، اور اسی لیے چین کے ساتھ تجارت میں غیر ملکی اداروں اور حکومتوں کو نقصان اور بیجنگ کو فائدہ ہوتا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس