1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زرداری کے لئے اوباما کی حمایت کا اعلان

امریکی صدر باراک اوباما نے جمعہ کو پاکستانی صدر آصف زرداری سے ملاقات میں انہیں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور پاکستانی معیشت میں بہتری کے لئے نئے راستوں کے تعین کا اعلان کیا۔

default

واشنگٹن حکام کے مطابق امریکی صدر نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن بھی موجود تھیں۔ صدر زرداری امریکی صدر باراک اوباما کے مندوب برائے افغانستان و پاکستان رچرڈ ہالبروک کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے امریکہ پہنچے تھے۔

Pakistan USA Vizepräsident Joe Biden mit Ministerpräsident Yusuf Raza Gilani

جو بائیڈن کے حالیہ دوران پاکستان میں بھی معیشت میں بہتری کو اہم موضوع کی حیثیت حاصل رہی

امریکی حکام کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستانی کوششوں کے حوالے سے بات چیت کی۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما امریکہ۔پاکستان تعلقات کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ پاکستان کے ساتھ دیرپا اور مستقل تعاون کے خواہشمند ہیں۔ واشنگٹن انتظامیہ کا کہنا ہے، ’ملاقات میں مرکزی موضوع دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ اقدامات، علاقائی استحکام بالخصوص افغانستان میں دیرپا امن کے لئے باہمی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘

امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر اور وزیر خارجہ سے ملاقات میں صدر زرداری نے معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو درکار امداد کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

امریکی صدر اوباما اور وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے یقین دلایا کہ وہ پاکستان کو درپیش سماجی اور سیاسی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے، اگلے چند دنوں میں معیشت میں استحکام سے متعلق پاکستانی معاشی اصلاحاتی عمل کی مضبوطی کے لئے نئے راستے تلاش کریں گے۔

Asif Ali Zardari Hillary Clinton

صدر زرداری ہلیری کلنٹن کے ہمراہ

حقانی نے کہا کہ اس ملاقات میں صدر زرداری نے امریکہ کی طرف سے سن 2009ء میں اگلے پانچ برسوں کے لئے پاکستان کو دی جانے والی سات اعشاریہ پانچ بلین ڈالر کی امداد پر امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔

حقانی نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مستقل بنیادوں پر امداد کا طلبگار رہنے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہمیں معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے، تاکہ ہم امداد کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستانی وزیراعظم نے ایوان میں اکثریت کھو دینے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا تھا، جس پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور امریکہ نے سخت اعتراض کیا تھا۔ رواں ہفتے امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر بھی پاکستانی معیشت میں بہتری بنیادی موضوع رہا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس