1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زرداری کے دورہ برطانیہ پر تنقید

ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں صدر آصف علی زرداری کے سرکاری دورہ برطانیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

default

ملکی ٹیلی وژن چینلز کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے جاری کوششوں کی نگرانی کرنے کے لئے صدر پاکستان کو اس وقت پاکستان میں ہونا چاہئے۔

پاکستانی حکومت کے مطابق حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں کم ازکم بارہ ملین افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ لیبر پارٹی کے برطانوی ممبر پارلیمان خالد محمود نے آصف علی زرداری پر الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اپنے عوام کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں کہ وہ اس وقت کس حال میں ہیں۔

Asif Ali Zardari Präsident Pakistan

صدر پاکستان برطانیہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے

برطانیہ میں ایک نشریاتی انٹرویو میں صدر پاکستان نے ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک میں جاری امدادی کارراوئیوں سے باخبر ہیں اور متعلقہ حکام سے لمحہ بہ لمحہ رابطے میں ہیں تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ان امدادی کارروائیوں کی نگرانی دراصل وزیر اعظم کا کام ہے، جو ملک کے چیف ایگزیکٹیو ہیں۔

آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اپنے دورہ یورپ کے دوران انہوں نے سیلاب زدگان کے لئے امدادی رقوم کی اپیل بھی کی، جس کے نتیجے میں فرانس، ابو ظہبی اور برطانیہ کے حکام نے بیس ملین پاؤنڈ مہیا کرنے کا عہد کیا ہے۔

اس سے قبل جمعہ کے دن آصف علی زرداری نے برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنے کے عہد کو دہرایا۔ اس ملاقات میں ڈیوڈ کیمرون نے جلد ہی پاکستان کا دورہ کرنے کی حامی بھی بھری۔

Asif Ali Zardari David Cameron England Pakistan Treffen

دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید تعاون کرنے کا عہد کیا

اس ملاقات کے بعد کیمرون اور زرداری کی طرف سے جاری کئے گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد اور لندن ، دہشت گردی کے خلاف کارراوئیوں میں اپنا تعاون بڑھائیں گے۔

جمعہ کے دن آصف علی زرداری نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ خبررساں ادارے AFP سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پاکستان نے کہا کہ پاکستان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کبھی بھی بند نہیں کئے،’’ ہم نے مذاکرات کا سلسلہ کبھی بھی بند نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور طالبان کے مابین ایک معاہدہ کیا گیا تھا ، جو طالبان نے پورا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ چاہیں، حکومت پاکستان سے مذاکرات کر سکتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM