1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زرداری کی حکومت بچاؤ مہم

پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو اتحادی جماعتوں کے دباؤ کا ان دنوں مسلسل سامنا ہے۔ جمیعت العلما ئے اسلام یا جے یو آئی (ف) کے بعد اب متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے دباؤ بڑھا دیا گیا ہے۔

default

پاکستانی صدر اور وزیر اعظم: فائل فوٹو

پیپلز پارٹی کے شریک چی‍ئر مین اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ شام کراچی پہنچ کر مرکزی حکومت کو اتحادیوں کی جانب سے جس دبا‌ؤ کا سامنا ہے اس کی شدت کم کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ اس مناسبت سے ہنگامی بات چیت میں صدر کے ساتھ مشاورت میں ان کے قریبی ساتھی اور وزیر داخلہ رحمان ملک اور سندھ صوبے کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ شریک ہیں۔

پیپلز پارٹی کو ملک کے اندر مختلف پالیسیوں کے تناظر میں غیر مقبولیت کا سامنا ہے۔ اس میں خاص طور پر اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ اہم خیال کیا جارہا ہے۔ حکومت افراط زر کو کنٹرول کرنے میں بظاہر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اسی باعث غریب آدمی پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ مہنگائی انتہائی زیادہ ہونے سے غربت کی شرح حد سے زیادہ بلند ہو چکی ہے۔

Plakat Altaf Hussain

متحدہ قومی موومنٹ، مرکز میں پیپلز پارٹی کی اہم حلیف جماعت ہے

کراچی پہنچنے کے بعد زرداری نے اپنی رہائش گاہ پر ملاقاتوں اور مشاورت کے سلسلے کو شروع کردیا ہے۔ پیر کی شام کو متحدہ قومی موومنٹ نے مرکزی کابینہ میں شریک وزراء کے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ایم کیو ایم کے ترجمان واسع جلیل نے بتایا ہے کہ پارٹی کی قیادت نےسمندر پار پاکستانیوں کے وفاقی وزیر فاروق ستار کا استعفیٰ صدر کو ارسال کردیا ہے اور بندرگاہوں اور جہاز رانی کے وفاقی وزیر بابر غوری کے استعفے کو بھی جلد ہی داخل دفتر کیا جائے گا۔

دوسری جانب رحمان ملک نے صدر سے مشورے کے بعد ایم کیو ایم کی لیڈرشپ سے رابطوں میں تیزی پیدا کردی ہے تا کہ پیدا شدہ اختلافات کو ختم کیا جا سکے۔ پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ صدر متحدہ کے وزراء کے استعفے کسی طور منظور نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کرنے سے حکومت لڑکھڑا سکتی ہے۔

سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ متحدہ اگر مرکزی حکومت سے علٰیحدہ ہوتی ہے توزرداری کی پیپلز پارٹی اپنی قلیل اکثریت سے محروم ہو سکتی ہے۔ اس باعث حکومت کو شدید خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ یہ صورت حکومت کے زوال اور اسمبلی کے تحلیل ہونے تک پہنچ سکتی ہے۔ قومی اسمبلی میں متحدہ کے اراکین کے تعداد پچیس ہے۔ اس سے قبل جے یو آئی (ف) کے رہنما فضل الرحمان نے وزیر اعظم کی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس