1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زرداری کا دورہء چین اور جوہری توانائی

پاکستانی صدر آصف علی زرداری جولائی کے پہلے ہفتے سے چین کا اہم دورہ شروع کر ر ہے ہیں۔ امکان ہے کہ اس دوران پاکستان میں جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے سلسلے میں چین کے ممکنہ تعاون پر بھی بات ہوگی۔

default

بیجنگ میں چینی دفتر خارجہ کے ترجمان کن گانگ نے صحافیوں کو پاکستانی صدر کے دورہ چین کی تصدیق کی تاہم زیادہ تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ فریقین اس بات پر غور کریں گے کہ کس طرح تمام شعبوں میں دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا جائے، خطے سمیت بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔‘‘ گانگ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کیا صدر زرداری سے متنازعہ جوہری توانائی کے معاہدے سے متعلق بھی بات کی جائے گی یا نہیں۔

چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے البتہ اتنا ضرور کہا کہ جوہری توانائی کے مجوزہ معاہدے سے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ’’ جوہری توانائی کے استعمال سے متعلق دونوں ممالک میں تعاون جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدوں کے عین مطابق  اور پر امن مقاصد کے لئے ہے۔

Trauer um Benazir Bhutto Anhänger Protestieren in Islamabad Pakistan

پاکستان میں توانائی کا بحران شدید ہے جو بعض اوقات مشتعل احتجاج کا سبب بھی بنتا ہے

‘‘

صدر زرداری چھ تا گیارہ جولائی چین کا دورہ کریں گے، جس دوران وہ اپنے چینی ہم منصب ہو جن تاؤ اور وزیر اعظم وین جیا باؤ سے ملیں گے۔

امریکہ اور بھارت کو پاکستان میں جوہری توانائی سے متعلق منصوبوں میں چین کے کردار پر تشویش لاحق ہے۔ خیال رہے کہ یہ دونوں ممالک آپس میں جوہری توانائی کے شعبے میں توانائی کا معاہدہ کرچکے ہیں۔

پاکستان کو طویل عرصے سے توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ ایسے میں وہ اپنے دیرینہ حلیف ملک چین کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔

Indien-Reise US Präsident George Bush trifft sich mit Indiens Premierminister Manmohan Singh

امریکہ اور بھارت آپس میں جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ کرچکے ہیں

اطلاعات ہیں کہ چین پاکستانی پنجاب کے چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ میں دو مزید ری ایکٹر کی تعمیر کی جانب بڑھ رہا ہے۔ امریکہ نے رواں ماہ کہا تھا کہ وہ چین سے اس منصوبے کی وضاحت چاہتا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی کے مطابق واشنگٹن 2008ء میں چین اور پاکستان کے مابین دو جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے معاہدے سے متعلق مزید معلومات چاہتا ہے۔

پاکستان اور چین کے مابین جوہری توانائی میں تعاون کے حالیہ مجوزے معاہدے پر گزشتہ ہفتے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ میں بات ہوئی تھی۔ اس گروپ میں چھیالیس ممالک شامل ہیں جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM