1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زرداری وطن واپس پہنچ گئے

پاکستانی صدر آصف علی زرداری پیر کو دبئی میں اپنے علاج کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان کے وطن پہنچے کے ساتھ ہی میمو گیٹ اسکینڈل کے حوالے سے ان افواہوں کا بھی خاتمہ ہو گیا، جو کافی دنوں سے میڈیا میں گردش کر رہی تھیں۔

default

پاکستانی حکام کے مطابق صدر زرداری اپنی بیٹی اور ذاتی عملے کے ہمراہ ایک خصوصی طیارے کے ذریعے دبئی سے کراچی پہنچے۔ پاکستانی صوبہ سندھ کے وزیرداخلہ منظور وسان نے خبر رساں ادارے AFP سے بات چیت میں زرداری کے وطن واپس پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر کا جہاز کراچی میں فضائیہ کے اڈے پر اترا۔

56 سالہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری چھ دسمبر کو اچانک دبئی روانہ ہو گئے تھے۔ صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ دل کے ایک کم شدت کے دورے کی وجہ سے دبئی کے ایک ہسپتال میں منتقل ہوئے ہیں۔ تاہم پاکستانی میڈیا پر ایسی رپورٹیں سامنا آنا شروع ہو گئی تھیں کہ صدر زرداری شاید خراب صحت کے تناظر میں مستعفی ہو جائیں یا پھر وطن واپس نہ لوٹیں۔

Pakistan Hussein Haqqani in Islamabad

سابق پاکستانی سفیر حقانی صدر زرداری کے ہمراہ

زرداری کی ملک سے روانگی ایک ایسے موقعے پر ہوئی تھی، جب پاکستانی سپریم کورٹ رواں برس مئی کے آغاز میں امریکی کمانڈوز کے ایک خصوصی آپریشن کے بعد امریکی میں پاکستانی سفیر کی جانب سے مبینہ طور پر امریکی فوج کے سربراہ کو لکھے گئے ایک مراسلے کے معاملے کی چھان بین میں مصروف ہے۔ اس مراسلے میں امریکی فوجی سربراہ کو پاکستان میں ممکنہ طور پر کسی فوجی بغاوت کو روکنے کے لیے امداد طلب کی گئی تھی۔

پاکستانی سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے دائر کیا گیا ہے، جس میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ معلوم کرے کہ اس مراسلے کے درپردہ کون تھا۔

یہ معاملہ اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا تھا، جب امریکی میں ایک معروف کاروباری شخصیت منصور اعجاز نے فائنشل ٹائمز میں اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد پاکستانی صدر زرداری کو خدشہ تھا کہ فوج اقتدار پر قابض ہو سکتی ہے۔ منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے کچھ روز بعد امریکہ میں متعین اُس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی نے انہیں ایک مراسلہ امریکی فوج کے سربراہ مائیک مولن تک پہنچانے کی درخواست کی تھی، جس پر انہوں نے عمل درآمد کیا۔

واضح رہے کہ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانی قیادت نے حسین حقانی سے استعفیٰ لے لیا تھا۔ سابق پاکستانی سفیر حقانی ایسے کسی بھی معاملے میں اپنے ملوث ہونے کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عابد حسین

DW.COM