1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

زخمی یمنی صدر کی حالت خطرے سے باہر

شورش زدہ عرب ملک یمن کے صدر علی عبداللہ صالح، جو زخمی حالت میں سعودی عرب پہنچے تھے، کی جسمانی حالت تسلی بخش ہے اور وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ سے پرائیویٹ کمرے میں منتقل کردیے گئے ہیں۔

default

علی عبداللہ صالح

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں سرکاری میڈیا کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ زخمی حالت میں سعودی عرب پہنچنے والے صدر صالح کی صحت بہتر ہونے کے بعد، اب انہیں انتہائی نگہداشت کی وارڈ سے پرائیویٹ کمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ معالجین کے مطابق بھی ان کی مجموعی صورت حال اطمینان بخش ہے۔ سعودی عرب کے ایک ہسپتال میں ان کی سرجری کا عمل کامیاب رہا ہے۔ سعودی ہسپتال کے ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ صالح سنبھل چکے ہیں اور وہ اب کاسمیٹک سرجری کے منتظر ہیں۔

علی عبداللہ صالح دارالحکومت صنعاء میں موجود قبائلیوں کی جانب سے صدارتی محل پر پھینکے جانے والے ایک راکٹ کے پھٹنے کے بعد جھلسنے کے علاوہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ ان کے جھلسنے کی شدت کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آئی تھیں۔ وہ گزشتہ ہفتہ کے روز علاج کی غرض سے سعودی دارالحکومت ریاض پہنچے تھے۔

NO FLASH Jemen Freude über die Abreise von Saleh 5. Juni 2011

صالح کی صحت یاپی کی خبروں کے بعد ان کے حامیوں نے خوشی منائی

سرکاری میڈیا کے اس اعلان کے بعد یمنی صدر کے حامیوں کی جانب سے خوشی کے اظہار کے طور پر بے پناہ ہوائی فائرنگ کی گئی۔ اس فائرنگ سے کچھ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع سامنے آئی ہے۔ بدھ کی رات کو صالح کی صحت کی بحالی کی خبر کے بعد ان کے حامیوں نے آتش بازی کا بھی سلسلہ جاری رکھا۔

یمن میں صالح کی عدم موجودگی میں، ان دنوں کاروبار مملکت نائب صدر عبدالرب منصور ہادی نے سنبھال رکھا ہے اور ان کا بھی کہنا ہے کہ اگلے چند روز بعد صدر صالح وطن لوٹ آئیں گے۔ یمن میں حکومت مخالفین نائب صدر پر دباؤ دے رہے ہیں کہ وہ عبوری کونسل کے قیام کا اعلان کریں۔

دوسری جانب جنوبی شہر تعز ہنگاموں اور حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ گزشتہ روز بھی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کو رپورٹ کیا گیا۔ اسی طرح نا معلوم جہادیوں کے قبضے میں شہر زنجبار میں بھی حکومت اور قابض جنگجووں کے درمیان جھڑپوں میں شدت پیدا ہو چکی ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ ابیان صوبے کے شہر زنجبار پر بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے وابستگی رکھنے والے ایک مسلح گروپ نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صالح حکومت زنجبار کی صورت حال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے اور زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکہ نے یمن میں القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس