1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

زبردستی حجاب اتارنے پر 85 ہزار ڈالر کا جرمانہ

کیلیفورنیا کی شہری انتظامیہ نے اس مسلمان لڑکی کو پچاسی ہزار ڈالر بطور زرتلافی دینے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کا حجاب پولیس کی جانب سے زبردستی اتارا گیا ہے۔ متاثرہ لڑکی نے اس حوالے سے ایک مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔

امریکی اسلامی تعلقات کونسل (سی اے آئی آر) نے کہا ہے کہ کیلیفورنیا کی شہری انتظامیہ نے متاثرہ مسلمان لڑکی کو زرتلافی ادا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔  مسلمانوں کی نمائندہ اس تنظیم نے پولیس کو ملزم ٹھہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’’لانگ بیچ پولیس‘‘ نے زبردستی متاثرہ مسلمان خاتون کا ہیڈ اسکارف اتروایا تھا۔

اب اس بات پر بھی اتفاق کر لیا گیا ہے کہ کسی مسلمان خاتون کا حجاب صرف اسی صورت میں اتارنے کا کہا جائے گا، جب کسی پولیس افسر کی جان کو ممکنہ خطرہ ہو اور حجاب اتارنے کی اجازت بھی صرف خاتون پولیس اہلکار کو ہوگی۔ شرائط کے مطابق حجاب اتارنے کے لیے متاثرہ خاتون کو الگ سے ایک کمرے میں لے جانا ضروری ہوگا۔

لانگ بیچ سٹی اور اس کی پولیس کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے مطابق کرسٹی پاؤل اور ان کے خاوند کو گزشتہ برس مئی میں اپنے گھر واپس جاتے ہوئے پولیس نے روکا اور انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا تھا۔ کرسٹی پاؤل نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور ایک پولیس افسر نے دیگر قیدیوں اور پولیس اہل کاروں کے سامنے زبردستی ان کا اسکارف اتارا۔ کرسٹی پاؤل کے مطابق پولیس افسر نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’اسے اسکارف پہننے کی اجازت نہیں ہے اور پولیس اہل کاروں کو خواتین کو چھونے کی اجازت ہے۔‘‘

درج کروائی جانے والی شکایت کے مطابق، ’’پولیس افسر کے اس رویے کی وجہ سے کرسٹی پاؤل کو بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ابھی تک ذہنی اذیت اور جذباتی طور پر تکلیف کا شکار ہے۔‘‘

کرسٹی پاؤل کی طرف سے یہ مقدمہ نیویارک میں ’’امریکی اسلامی کونسل تعلقات‘‘ نامی ادارے کے لیے بہ طور وکیل کام کرنے والی خاتون یالدا ستار نے درج کروایا تھا۔ ان کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ لانگ بیچ پولیس کی جانب سے لیا گیا ایکشن غیرقانونی تھا اور پاؤل کی عزت نفس کے خلاف بھی تھا۔‘‘

DW.COM